تیواری کو پناہ دینے اور بہن سے شادی کروانے والا شخص کامران بھی گرفتار
لاہور ۔ 2 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی حکام نے اس ملک کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ 10 سال سے رہنے والے ایک ہندوستانی شخص کو جعلی دستاویزات کے ساتھ گرفتار کرلیا۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائرکٹر احمر سندھو نے دیگر عہدیداروں کے ساتھ گجرانوالہ میں معین آباد کے ایک گھر پر دھاوا کیا تھا جہاں سے اس شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کی شناخت پانجم تیواری کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والی ایجنسی نے گجرانوالہ کے ساکن کامران کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جس نے تیواری کو پناہ دی تھی۔ بیان کیا جاتا ہیکہ تیواری ملازمت کیلئے 2009ء میں دبئی گیا تھا۔ وہاں اس کی ملاقات کامران سے ہوئی تھی جہاں وہ دونوں بزنس پارٹنرس بن گئے تھے۔ کامران نے پانجم تیواری کو جعلی پاسپورٹ پر پاکستان لایا تھا۔ ہندوستانی شہری تیواری پاکستان میں اسلام قبول کرتے ہوئے کامران کی بہن رخسانہ کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھ گیا تھا اور اپنا نام بدل کر بلال رکھ لیا تھا۔ وہ گجرانوالہ میں رہتے ہوئے فرضی دستاویزات صداقتنامہ پیدائش، شادی کا نکاح نامہ، قومی شناختی کارڈ بنا لیا تھا۔
