اسلام آباد، 27 جون (سیاست ڈاٹ کام) حکومت پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ملنے والے چھ ارب ڈالر کی شرائط کو پورا کرنے کے تحت گیس کی قیمت میں 190 فیصد تک اور بجلی کی شرحوں میں ڈیڑھ روپے فی یونٹ اضافہ کرنے کی منظوری دے دی ہے ۔ حکومت کے اس قدم سے مہنگائی سے دوچار پاکستان عوام کی مشکلات مزید بڑھنے والی ہے ۔ یہ اضافہ آئی ایم ایف کی بقیہ دو بڑی شرائط کو پورا کرنے کے لئے کیا گیا ہے ۔ گیس اور بجلی کی شرحوں میں اضافہ سے صارفین پر 334 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ دی ٹربیون کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی جانب سے لیا گیا یہ فیصلہ یکم جولائی سے نافذ ہوگا۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے اگلے چہارشنبہ کو میٹنگ بلائی ہے جس میں پاکستان کے چھ ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کو منظوری دی جائے گی۔ رواں مالی برس میں یہ دوسرا موقع ہے جب مسٹر عمران خان کی قیادت والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی نے گیس اور بجلی کی شرحوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اضافہ کا زیادہ سے زیادہ بوجھ درمیان اور اعلیٰ آمدنی والے طبقے کے لوگوں پر ڈالا گیا ہے ۔
