دمشق ۔ 18 ستمبر (ایجنسیز) اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سفیر عثمان جدون نے شام میں دراندازی کرنے پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسے عرب ملک کی علاقائی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انہوں نے اس ہفتے اسرائیل سے وہاں کے تمام مقبوضہ علاقوں سے انخلاء کا مطالبہ کیا۔دسمبر 2024 میں شام کے سابق صدر بشار الاسد کی معزولی کے بعد سے اسرائیل نے شام کے عسکری بنیادی ڈھانچے پر سینکڑوں حملے کیے اور وہاں مزید گہرائی میں نئے ٹھکانے حاصل کر لیے ہیں۔شامی حکومت اور اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ تعیناتی شام کی خودمختاری اور 1973 کی شرقِ اوسط جنگ کے بعد 1974 کے ‘انخلاء ِ افواج کے معاہدے’ کی خلاف ورزی ہے۔ اسی حوالے سے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا، “شامی سرزمین پر اسرائیل کی مسلسل عسکری سرگرمیاں اور موجودگی شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام ہونا چاہیے اور ساتھ ہی 1974 کے ‘انخلائِ افواج کے معاہدے’ اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی سختی سے پاسداری ہونی چاہیے۔”جدون سلامتی کونسل کی اس بریفنگ سے خطاب کر رہے تھے جو شام کی سیاسی اور انسانی صورتِ حال پر غور کرنے کیلئے طلب کیی گئی تھی۔ پاکستانی مندوب نے شامی سرزمین میں اسرائیلی دراندازی کی مذمت کی جس میں رواں ماہ کے اوائل میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کا دورہ شامل ہے۔یاد رہیکہ نو ستمبر کو نیتن یاہو نے شامی علاقہ میں واقع کوہِ حرمون (جبل الشیخ) پر اسرائیلی فوجی چوکیوں کا دورہ کیا تھا۔ اسرائیل کا اب پہاڑ کی چوٹی سے لے کر جنوب میں دریائے یرموک اور مغرب میں بحیرہ روم تک بے مثال کنٹرول قائم ہے، وہاں انہوں نے اعلان کیا۔
جدون نے کہا کہ اسرائیل کو گولان اور شام کے دیگر مقبوضہ علاقوں سے انخلاء کرنا چاہیے۔