پاکستان کشمیر میں دہشت گردوں کو گھسانے میں مصروف

   

’’جتنے دہشت گرد مقامی ہوتے ہیں اتنے ہی پاکستانی‘‘۔ ڈی آئی جی سلیمان چودھری کی پریس کانفرنس
بارہمولہ: وادی کشمیرمیں دہشت گردوں کی صفوں میں مقامی دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ خاصی تعداد میں پاکستانی دہشت گردوں کی شمولیت ہوتی ہے۔ شمالی کشمیر میں حزب المجاہدین ایک مرتبہ پھر اپنا قدم جمانے کی کوشش میں ہیں۔ شمالی کشمیر کے حیدر بیگ پٹن میں قائم فوج کے دس سیکٹر میں آرمی، پولیس، سی آرپی ایف اور ایس ایس بی کی مشترکہ پریس کانفرنس میں آرمی دس سیکٹر کے کمانڈر برگیڈئیر نریش مشرا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کشمیر کے پٹن اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں حزب المجاہدین اپنے پیر جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔کمانڈر برگیڈیئر نریش مشرا نے بتایا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے یہ دیکھا گیا کہ جتنے بھی انکاؤنٹر ہوئے ہیں، ان میں ضرورپاکستانی دہشت گرد شامل ہوتے ہیں۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کشمیر میں دہشت گردوں کو دھکیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ سارے کے سارے مقامی ہوتے ہیں بلکہ جتنے مقامی ہوتے ہیں اتنے ہی پاکستانی ہوتے ہیں۔

جموں وکشمیر پولیس کے شمالی کشمیرکے ڈی آئی جی سلیمان چودھری نے بھی پریس کانفرنس میں بتایا کہ جب سے جموں و کشمیرمیں دفعہ 370 کو منسوخ کیا گیا، تب سے پاکستان کی طرف سے یہ کوشش رہی ہیکہ یہاں زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو دہشت گردانہ صفوں میں بھرتی کیا جائے۔ اس کا بین ثبوت کپواڑہ،کیرن اوردیگرمقامات پردیکھا گیا۔ سلیمان چودھری نے مزید بتایا کہ سیکورٹی فورسیز کی یہ کوشش رہتی ہیکہ یہاں کے نوجوانوں کو دہشت گردی کی جانب راغب ہونے سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کشمیر کے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غلط راستہ ترک کریں۔آرمی کے کمانڈر بریگیڈیئر نریش مشرا نے بھی بتایا کہ وادی کشمیر کے نوجوان ملک کے لئے اہم اثاثہ ہیں۔ اگریہ لوگ صحیح راستے پر چلیں گے اوران کا ایجنڈا تعمیروترقی رہے تو وہ کشمیر کیا ملک کے لئے بہت ہی بہتر ہوگا۔ نریش مشرا نے مزید بتایا کہ جوں ہی انہیں کسی نوجوان کے دہشت گردوں صفوں میں شامل ہونے کی اطلاع ملتی ہے تو وہ ان کے والدین یا رشتہ داروں کے ذریعے سے اسے واپس لانے کی کوشش کرتے ہیں، جس میں وہ بہت حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ مشرا نے واضح کردیاکہ جو جنگجو بنناچاہتاہے اسے موقع نہیں دیا جائے گا۔گزشتہ روز شمالی کشمیرکے یدی پورہ پٹن میں انکاؤنٹرسے متعلق پریس کانفرنس میں ان باتوں کا اظہار کیا گیا۔ اس انکاؤنٹر میں تین عسکریت پسند مارے گئے، ایک میجرسمیت دوپولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ انکاؤنٹر کے دوران رہائشی مکان میں پھنسے مقامی افراد کوفوج نے بحفاظت باہر نکالا تھا جس کے بعد عسکریت پسندوں کو مارا گیا۔