پاک۔ افغان دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے نئے طریقہ کار پر اتفاق

,

   

اپریل میں شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد حنا ربانی کھر افغانستان کا دورہ کرنے والی پہلی خاتون قائد
وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر کے دورہ کابل کے دوران پاکستان اور افغانستان نے دو طرفہ تعلقات کے لیے نیا طریقہ کار متعارف کرانے پر اتفاق کیا ہے۔پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر کی سربراہی میں ایک روزہ دورے پر افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچا تھا۔پاکستانی وفد میں افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی محمد صادق بھی موجود ہیں۔اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے کہا کہ حنا ربانی کھر نے افغان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی۔افغان حکام نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان نے دو طرفہ تعلقات کے لیے نیا طریقہ کار متعارف کرانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ تمام مشترکہ مواقع اور مسائل کا مذاکرات کے ذریعے جائزہ لیا جاسکے۔افغان نائب خارجہ امور کے ترجمان حافظ ضیا تکل نے ٹوئٹر پر کہا کہ مسائل سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک نے مثبت اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ امیر خان متقی نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو عوام اور خطے کے لیے اہم قرار دیا۔امیر خان متقی نے پاکستان میں افغان قیدیوں کی رہائی، سرحد پار نقل و حرکت میں مسافروں کو سہولیات، تجارت اور راہداری میں پیشرفت سے متعلق مسائل اٹھائے۔ان کا کہنا تھا کہ افغان فریق نے تاپی گیس پائپ لائن، ریلوے لائنز اور دیگر منصوبوں پر پیش رفت کے لیے بھی آمادگی ظاہر کی، انہوں نے سیاسی تعلقات، اقتصادی ترقی اور سلامتی کے بارے میں افغانستان کے مؤقف کی بھی وضاحت کی۔ترجمان نے کہا کہ پاکستانی فریق نے افغان مہاجرین کے ساتھ اچھے سلوک، سرحد پار نقل و حرکت میں مسائل کے حل اور ویزوں کے اجرا کا وعدہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی وفد نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ پاکستان ٹرانزٹ کو مزید آسان بنانے کے لیے اقدامات کریں گے۔قبل ازیں، دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر افغانستان کے ساتھ خطے کی سیکیورٹی مسائل اور پاکستانی طالبان کے ساتھ امن و امان کی صورتحال اور معاشی حالات پر تبادلہ خیال کریں گی۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حنا ربانی کھر نے افغانستان میں امن اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی کوششوں کے عزم کا اعادہ کیا۔مزید بتایا گیا کہ بطور دوست اور پڑوسی ملک کے پاکستان افغانستان کے عوام کے ساتھ یک جہتی کے عزم کا اعادہ کرتا ہے، خاص طور پر انسانی بحران کو کم کرنے اور افغانستان کے مرد، خواتین اور بچوں کی معاشی خوشحالی کے حقیقی مواقع پیدا کرنے کی کوششیں کرنا ہے۔ خیال رہے کہ رواں برس اپریل میں شہباز شریف کا وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد حنا ربانی کھر پہلی خاتون رہنما ہیں جو افغانستان کا دورہ کر رہی ہیں۔
، کابل آمد پر پاک۔ افغان مذاکرات میں سیکیورٹی، تعلیم، تجارت پر بات چیت ہوگی۔حال ہی میں پاک افغان چمن سرحد پردوطرفہ فائرنگ اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے حملوں میں اضافے کے دوران وفاقی وزیر حنا ربانی کھر ایک روزہ دورہ پر افغانستان پہنچی ہیں، پاکستانی حکام اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ ٹی ٹی پی، افغانستان کی سرزمین سے آپریٹ ہو رہی ہے لیکن طالبان حکام نے اس بیان کی تردید کردی تھی۔