پرانے شہر حیدرآباد کے اے ٹی ایمس میں رقم کی قلت

   

شہریوں کو مشکلات کا سامنا ، صارفین کی شکایت کے باوجود مسئلہ کی عدم یکسوئی
حیدرآباد۔ 16اپریل(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں کرنسی کی قلت پیدا ہونے لگی ہے یا جان بوجھ کر کرنسی کی قلت پیدا کی جار ہی ہے !دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں بیشتر اے ٹی ایم غیرکارکرد ہوچکے ہیں اور کئی اے ٹی ایم اگر کارکرد ہیں بھی تو ان میں نقد رقم کی عدم موجودگی کے سبب شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر کے علاقوں میں موجود عوامی اور خانگی بینکوں کے اے ٹی ایم مراکز کئی ماہ سے بند رکھے جانے لگے ہیں اور ان اے ٹی ایم مراکز کے متعلق دریافت کرنے پر کہا جا رہا ہے کہ اے ٹی ایم کے استعمال میں ہونے والی کمی کو دیکھتے ہوئے بینکوں کی جانب سے اے ٹی ایم مراکز کو بند کیا جانے لگا ہے۔ذرائع کے مطابق ملک میں آن لائن لین دین کے فروغ کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت ریزروبینک آف انڈیا کی جانب سے اے ٹی ایم کے استعمال پر عائد کئے جانے والے چارجس اور ان میں اضافہ کے بعد اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بینکوں کو اس بات کی ہدایت دی جارہی ہے کہ وہ اے ٹی ایم کی تعداد میں تخفیف کے اقدامات کریں لیکن کسی بھی بینک کی جانب سے اس بات کی توثیق نہیں کی گئی اور نہ ہی اس بات سے کوئی انکار کیا جا رہاہے ۔ پرانے شہر کے علاقوں کے علاوہ نئے شہر کے کئی مقامات پر اے ٹی ایم کو بند رکھے جانے کے سلسلہ میں دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ یہ معمول کی بات ہے جبکہ عام طور پر شہر میں تہوار یا بینکوں کو مسلسل طویل تعطیلات کی صورت میں ہی اے ٹی ایم غیر کارکرد ہوا کرتے ہیں یا ان میں نقد رقومات کی قلت ریکارڈ کی جاتی ہے لیکن اب جو صورتحال دیکھی جا رہی ہے اس کے مطابق شہر کے کئی اے ٹی ایم کو مستقل طور پر بند رکھا جانے لگا ہے یا جو اے ٹی ایم کھلے ہیں ان میں رقومات موجود نہیں ہیں جس کے نتیجہ میں نقد رقومات حاصل کرنے کے خواہشمندوں کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ گذشتہ کئی برسوں سے شہر حیدرآباد کے اے ٹی ایم کے متعلق اس بات کی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ حیدرآباد کے اے ٹی ایم میں خواہ وہ کسی بینک کے کیوں نہ ہوں ان میں رقومات موجود نہیں ہوتی ۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے علاقوں میں موجود اے ٹی ایم میں نقد رقومات کی عدم موجودگی کے سبب مشکل حالات کا شکار ہونے والے صارفین کی جانب سے شکایت کئے جانے کے باوجود بھی ان مسائل کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی جاتی ۔ پرانے شہر میں جہاں اے ٹی ایم کی تعداد بہت کم ہے اور چند ایک بینک ہی اپنے اے ٹی ایم مراکز قائم کئے ہوئے ہیں اگر کم تعداد میں اے ٹی ایم اور ان میں بھی نقد رقومات نہ ہوں تو ایسی صورت میں پرانے شہر کے مکینوں کو زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔3