پرانے شہر میں تاجروں اور ہوٹل مالکین کو جیل نہیں بھیجا جائے گا: محمود علی

   

دیر تک کاروبار کی صورت میں صرف جرمانہ،جیل بھیجنے کے خلاف اسمبلی میں احمد پاشاہ قادری کا احتجاج

حیدرآباد۔/12 فروری، ( سیاست نیوز) وزیر داخلہ محمد محمود علی نے پرانے شہر کے چھوٹے تاجروں اور ہوٹل مالکین کو پولیس کی جانب سے جیل بھیجنے کے طریقہ کار کو ختم کرنے کا تیقن دیا۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران مجلس کے رکن سید احمد پاشاہ قادری کی توجہ دہانی پر وزیر داخلہ نے کہا کہ دیر تک دکانات کھلے رکھنے یا پھر فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے کے جرم میں پولیس کی جانب سے تاجروں کو جیل بھیجنے کی روایت کو ختم کرنے کیلئے ڈائرکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ تاجروں کو آئندہ سے جیل نہیں بھیجا جائے گا اور صرف جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے سے ٹریفک اور پیدل راہگیروں کو دشواری ہورہی ہے۔ عوامی نمائندوں کو چاہیئے کہ وہ فٹ پاتھ کے بیوپاریوں کو پابند کریں کہ ٹریفک اور راہگیروں کے لئے خلل پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو احساس ہے کہ غریب افراد پیٹ بھرنے کیلئے محنت کرتے ہیں۔ پولیس کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ جرمانہ عائد کرے نہ کہ تاجرین کو جیل بھیجا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر میں متوازی بریجس کی تعمیر کے ذریعہ تاجرین کو علحدہ مقام فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ احمد پاشاہ قادری نے شکایت کی کہ چھوٹے کاروباریوں اور ہوٹل مالکین کو دیر تک کھلا رکھنے پر جیل کی سزا دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل بھیجنا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ جرمانہ، وارننگ اور کونسلنگ کی جانی چاہیئے۔ غریب محنت کش افراد کو جیل بھیج کر پولیس انہیں داغدار بنارہی ہے۔ بغیر کسی جرم کے فٹ پاتھ پر روزگار کیلئے محنت کرنے والوں کو جیل بھیجنا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف حیدرآباد میں جیل بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے اور پولیس کی جانب سے فوٹو لے کر تاجروں کو جیل کی سزا دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ چیف منسٹر کے تیقن کے باوجود موٹرسیکل اور کار مالکین کو ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر چالان کے بجائے جیل بھیجا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ سلسلہ فوری بند کرنے اور جرمانہ پر اکتفاء کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر داخلہ نے باپو راؤ راتھوڑ کے اصل سوال کے جواب میں بتایا کہ تلنگانہ میں 136 فائر اسٹیشن موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 43 نئے فائر اسٹیشنوں کی منظوری دی گئی ہے اور حکومت ہر اسمبلی حلقہ میں ایک فائر اسٹیشن کا منصوبہ رکھتی ہے۔ر