جائیدادوں کے معاوضہ میںاضافہ کرنے مالکین کا اصرار ۔ دارالشفاء تا کوٹلہ عالیجاہ سڑک کو 100 کی بجائے 80 فیٹ کرنے پر زور
حیدرآباد 29 اگسٹ(سیاست نیوز) حکومت نے پرانے شہر میں میٹروریل کے تعمیری وترقیاتی کاموں کے آغاز کیلئے دارالشفاء تا کوٹلہ عالیجاہ جائیداد مالکین سے مذاکرات کا آغاز کردیا ہے۔ پرانے شہر میں میٹروریل کے تعمیری کامو ںکے آغاز کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق آج ایک اجلاس میں مالکین جائیداد نے ڈپٹی کلکٹر حصول اراضیات کے ہمراہ منعقدہ مذاکرات میں جائیدادوں کیلئے معاوضہ میں اضافہ اور دارالشفاء تا کوٹلہ عالی جاہ 100 فیٹ کی سڑک کے بجائے 80 فیٹ تک سڑک کی توسیع کی خواہش کی اور کہا کہ پرانے شہر کی ترقی کیلئے وہ حکومت سے تعاون کرنے تیار ہیں لیکن حکومت سے طئے کیا گیا معاوضہ اطمینان بخش نہیں ہے بلکہ اس میں اضافہ ناگزیر ہے۔ مالکین جائیداد نے مذاکرات کیلئے پہنچے عہدیداروں کو بتایا کہ میٹرو ریل کی تعمیر کیلئے حصول اراضیات کے معاملہ میں اب تک 4 مرتبہ جائیدادوں کی نشاندہی کرکے ان جائیدادوں پر نشان لگائے گئے لیکن اب اچانک راتوں رات کارروائی میںدونوں جانب مساوی جائیدادوں کے حصول کے بجائے ایک جانب زیادہ اور دوسری جانب کم حصول سے بدگمانیاں پیدا ہونے لگی ہیں اسی لئے عہدیداروں کو بہتر سروے کے ذریعہ دوبارہ حصول اراضیات کے سلسلہ میں سڑک کے دونوں جانب مساوی جائیداد کے حصول کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ جائیداد مالکین کا کہناہے کہ حکومت نے جس معاوضہ کا تعین کیا ہے وہ قوانین اور اصولوں کے خلاف ہے کیونکہ قوانین کے مطابق سڑک کی توسیع کیلئے لی جانے والی جائیدادوں کو ان کی ملکیت کا تین گنا اضافہ معاوضہ دیا جانا چاہئے لیکن اس سڑک پر جائیدادوں کیلئے حکومت سے 26 ہزار 500 روپئے مربع گز اور تعمیرات کو1400 روپئے مربع فیٹ کے اعتبار سے دوگنا معاوضہ دینے کی پیش کش کی جا رہی ہے جبکہ دارالشفاء تا کوٹہ عالیجاہ مکمل تجارتی علاقہ ہے اسی لئے تاجرین کو اپنے کاروبار سے محروم ہونا پڑرہا ہے اسی لئے حکومت کو ان کے معاوضہ میں اضافہ پر ہمدردانہ غور کرکے اس میں اضافہ کا فیصلہ کرنا چاہئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی پیش کش کو تاجرین نے مجموعی اعتبار سے مسترد کرکے کہا کہ انہیں 2لاکھ روپئے مربع گز کے اعتبار سے معاوضہ ادا کیا جائے اور اس سڑک کو 100 فیٹ کے بجائے 80 فیٹ رکھنے اقدامات کئے جائیں کیونکہ سلطان بازار میں تجارت متاثر نہ ہو اس کیلئے حیدرآباد میٹرو ریل نے علاقہ کے تاجرین کو مشکل صورتحال میں ڈالنے کی بجائے 60 فیٹ کی سڑک پر میٹرو ریل راہداری کی تعمیر کو یقینی بنایا اور اسی طرح کے اقدامات دارالشفاء تا کوٹلہ عالیجاہ سڑک پر بھی کئے جاسکتے ہیں۔ جائیداد مالکین نے کہا کہ وہ اپنی جائیدادیں ترقیاتی کاموں کیلئے حکومت کے حوالہ کرنے تیار ہیں لیکن حکومت کو تاجرین کے کاروبار کے متعلق بھی ہمدردانہ غور کرکے ترقیاتی کاموں کو انجام دینا چاہئے ۔ تاجرین کا کہناہے کہ پراجکٹ کی تعمیر و تکمیل کیلئے درکار 3سال میں اس مصروف ترین سڑک پر موجود تجارتی اداروں کے کاروبار بھی متاثر رہیں گے اسی لئے مالکین جائیداد اضافی معاوضہ کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ حیدرآباد میٹرو ریل کے تعمیری و ترقیاتی کاموں پر میٹرو ریل عہدیداروں نے فضائی سروے مکمل کرکے جائیدادوں کے حصول کی نشاندہی کا عمل مکمل کرلیا ۔ عہدیداروں نے مالکین کو مشورہ دیا کہ وہ جو مطالبات زبانی طور پر پیش کر رہے ہیں انہیں تحریری شکل دے کر نمائندگی کریں تاکہ عہدیدار مقامی تاجرین و جائیداد مالکین کے مطالبات کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں حکومت کے پاس پیش کرسکیں۔3