حیدرآباد۔2اکٹوبر(سیاست نیوز) پرانے شہر کے مسائل سے حکومت کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے بعد اب تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی جانب سے بھی بے اعتنائی برتی جانے لگی ہے اور کہا جار ہاہے کہ پرانے شہر کے علاقوں میں سہولتوں کی فراہمی کیلئے متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے ۔ حسینی علم گرلز جونیئر و ڈگری کالج کیلئے بس سروس کا آغاز ناگزیر ہوتا جا رہا ہے اور بس خدمات نہ ہونے کے سبب طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ماہرین تعلیم کا کہناہے کہ یہی صورتحال رہنے پر ترک تعلیم کے رجحان میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسی لئے کالج تک منی بس کا آغاز کیا جانا چاہئے ۔ پرانے شہر میں موجود حسینی علم گرلز ڈگری و جونیئر کالج کیلئے کسی زمانے میں بس خدمات ہوا کرتی تھی لیکن ان خدمات کو معطل کردیا گیاجس کے سبب نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ خدمات کی معطلی کے بعد طالبات کو چومحلہ یا فتح دروازہ سے کالج تک پیدل مسافت طئے کرنی پڑ رہی ہے۔بعض طلبہ کو شاہ علی بنڈہ سے کالج تک پیدل مسافت طئے کرنی پڑ رہی ہے۔ کالج کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ کالج تک منی بس خدمات کے آغاز کیلئے متعدد مرتبہ توجہ دلوائی جاچکی ہے اور رکن اسمبلی یاقوت پورہ جناب سید احمد پاشاہ قادری کے علاوہ رکن اسمبلی چارمینار جناب ممتاز احمد خان نے بھی اس سلسلہ میں کارپوریشن کو مکتوبات روانہ کئے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ دیوڑھی خورشید جاہ شاہ گنج میں واقع اس کالج میں جہاں نہ صرف جونیئر و ڈگری کالج ہی نہیں بلکہ اب پی جی کالج بھی موجود لیکن اس کے باوجود اس کالج تک بس خدمات کی عدم فراہمی ناقابل فہم ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس کالج تک بس کے پہنچنے کا راستہ نہیں ہے کیونکہ کالج کے اطراف کی سڑک پر کئی خانگی اسکولوں کی بسیں پہنچتی ہیں اور ان بسوں کی آمد و رفت میں کوئی مشکل نہیں پیش آتی اگر تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں سے حسینی علم کالج تک بس خدمات کا آغاز کرے تو ایسی صورت میں بس خدمات کے استفادہ کنندگان کی تعداد میں بھی بھاری اضافہ ہوگا۔ م
مقامی منتخبہ عوامی نمائندوں کو طالبات کے ان مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں بس سہولت کی فراہمی کے سلسلہ میں مؤثر نمائندگی کرنی ضروری ہے کیونکہ اس علاقہ میں منی بس خدمات کے آغاز سے نہ صرف کالج طالبات بلکہ علاقہ کے عوام کا بھی زبردست فائدہ ہوگا اور اطراف کے علاقہ سے تعلق رکھنے والے بھی اس بس خدمات سے استفادہ حاصل کرسکیں گے۔