متعدد سرکاری اسکولس میں ناشتہ کی اسکیم کا عدم آغاز، اولیائے طلبہ میں شدید ناراضگی
حیدرآباد۔8 ۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) پرانے شہر تک سرکاری اسکیمات کے فوائد پہنچانے میں تاخیر کا سلسلہ آخر کب بند ہوگا! کیوں پرانے شہر کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا ہے! پرانے شہر میں رہنے والوں کو سرکاری اسکیمات سے فوائد یا ترقی کی رفتار سے محروم رکھے جانے پر حکومت سے استفسار کرنے والا کوئی نہیں ہے! ریاستی حکومت کی جانب سے گذشتہ دنوں ریاست بھر کے سرکاری اسکولوں میں ’چیف منسٹر بریک فاسٹ‘ اسکیم کا آغاز عمل میں لایا گیا لیکن پرانے شہر میں چند ایک سرکاری اسکولوں کے علاوہ بیشتر کئی اسکولوں میں اس اسکیم کی شروعات نہیں کی گئی اور نہ ہی اس اسکیم کے تحت دو یوم سے شہر کے مختلف علاقوں میں سربراہ کئے جانے والا ناشتہ پرانے شہر کے اسکولوں میں سربراہ نہیں کیا جا رہاہے۔ پرانے شہرکی ترقی ‘ پرانے شہر میں ترقیاتی کام‘ پرانے شہر میں انفراسٹرکچر ‘ پرانے شہر میں سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ پرانے شہر سے کچہرے کی نکاسی میں تک سوتیلا سلوک اختیار کیا جاتا ہے لیکن پرانے شہر کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے ساتھ بھی حکومت کے سوتیلے سلوک سے والدین اور سرپرستوں میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ شہر کے ایک علاقہ کے سرکاری اسکولوں میں ریاستی وزراء طلبہ کے ساتھ ناشتہ کر رہے ہیں اور انہیں ناشتہ اپنے ہاتھوں سے ڈال کر کروارہے ہیں اس کے علاوہ وزراء طلبہ سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے ان کے مستقبل کے متعلق منصوبوں سے آگہی حاصل کرتے ہوئے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ انہیں سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی فکر ہے لیکن پرانے شہر کے اسکولوں میں ناشتہ کی اسکیم کے آغاز کی کوئی تقریب منعقد نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی مہمان نے پرانے شہر کے اسکولوں کی حالت زار کا جائزہ لینے یا پرانے شہر کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں سے ان کے مستقبل کے متعلق منصوبوں سے آگہی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ چیف منسٹر بریک فاسٹ اسکیم جو کہ ریاست بھر میں شروع کی گئی ہے اور اس اسکیم کے تحت سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے 23لاکھ بچوں کو روزانہ ناشتہ فراہم کرنے کے اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس اسکیم کا افتتاح ہوئے دو یوم گذر چکے ہیں لیکن پرانے شہر کے سرکاری اسکول حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ناشتہ کی اسکیم سے اب بھی محروم ہیں۔ شہر کے اس خطہ میں ایک اسکول میں جہاں یہ افتتاحی تقریب کی تیاریاں کی گئی تھیں اس تقریب میں ریاستی وزیر کو مدعو کیا گیا تھا لیکن لمحہ آخر میں وزیر موصوف نے رکن اسمبلی کے ہاتھوں افتتاح کروانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مصروف ہونے کے سبب اس تقریب میں شرکت نہیں کرسکتے لیکن جب محکمہ تعلیم کے ذمہ داروں نے متعلقہ رکن اسمبلی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ علی الصبح اس پروگرام میں شرکت سے قاصر ہیں کیونکہ ان کی صبح 11 بجے ہوتی ہے۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے لمحہ آخر میں اس پروگرام کو منسوخ کردیا اور پرانے شہر کے بیشتر سرکاری اسکولوں میں اب بھی ناشتہ کی اسکیم کا آغاز نہیں ہوپایا ہے۔