پرشانت کشور ‘ کجریوال کی راہ پر ؟

   

اک نہ اک دن زمانے پہ کھل جائیں گی
ان کے کردار کی ساری کلکاریاں
بہار میں جیسے جیسے انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے ویسے ویسے سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ویسے تو تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی سرگرمیاں بہت پہلے سے شروع کردی تھیں اور اپنی بساط پر سیاسی چال چلنے لگے تھے ۔ کہیں کسی سے اتحاد کیا جا رہا ہے تو کہیں کسی سے اتحاد ختم کیا گیا ۔ کہیں سابقہ مخالفین ایک دوسرے کے دوست بن گئے تو کہیں سابقہ دوست اب ایک دوسرے کے مد مقابل آگئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انتخابات میں سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسا دکھایا جاتا ہے۔ پس پردہ جو کچھ ہوتا ہے اس کو عوام کی نظروں اور توجہ سے ہٹانے کیلئے نت نئے انداز اختیار کئے جاتے ہیں۔ بہار میں نتیش کمار 20 سال سے مخلوط حکومت کے چیف منسٹر ہیں۔ نتیش کمار اب عوام کے اعتماد سے محروم ہوتے نظر آرہے ہیں۔ عوام اب ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اور نہ ہی چاہتے ہیں کہ وہ دوبارہ اقتدار کی کرسی پر براجمان دیکھے جائیں۔ خود نتیش کمار اور ان کی حلیف بی جے پی کو بھی اس صورتحال کا اندازہ ہے ۔ بہار میں این ڈی اے اور مہا گٹھ بندھن کے درمیان راست مقابلہ ہے اور ایسے میں پرشانت کشور کو میدان میں لادیا گیا ہے ۔ پرشانت کشور بھی اروند کجریوال کی طرح بی جے پی اور اس کے قائدین کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کر رہے ہیں اور وہ مہا گٹھ بندھن آر جے ڈی یا کانگریس کو تو خاطر میں لانے بھی تیار نہیں ہیں ۔ وہ یہ دعوی کر رہے ہیں کہ ان کا مقابلہ بہار میں این ڈی اے سے ہے ۔ ان کا یہ بھی دعوی ہے کہ چیف منسٹر نتیش کمار کی جے ڈی یو کو انتخابات میں 25 نشستیں بھی نہیں مل پائیں گی ۔ اس طرح سبھی کو نشانہ بناتے ہوئے پرشانت کشور بی جے پی کی سیاسی اہمیت میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ بی جے پی کی خود کی حالت بہار میں اس بار مستحکم دکھائی نہیں دیتی اور وہاں اس کیلئے کوئی عوامی چہرہ بھی نہیں ہے ۔ بی جے پی کی ساری امیدیں صرف وزیر اعظم نریندرمودی سے وابستہ ہیں جبکہ انتخابات ریاست کے ہیں۔ ایسے میں پرشانت کشور اپنی مہم کے ذریعہ بی جے پی کی سیاسی اہمیت کو اجاگر کرنے اور اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پرشانت کشور ضرور ایک اچھے پالیسی ساز رہے ہیں ۔ انہوں نے سب سے پہلے نریندر مودی کیلئے ہی کام کیا تھا ۔ وہ کانگریس سے بھی مل کر کام کرنا چاہتے تھے تاہم کانگریس نے ان کے مشوروں کو قبول نہیں کیا ۔ پرشانت کشور نے ممتابنرجی ‘ وائی ایس جگن موہن ریڈی ‘ چندرا بابو نائیڈو اور دوسروں کیلئے بھی کام کیا تھا ۔ تاہم اس بار وہ خود انتخابی سیاست کا حصہ بننے جا رہے ہیں اور یہ ان کا پہلا تجربہ ہوگا ۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر عام ہونے لگا ہے کہ پرشانت کشور اس بار بھی بہار میں بی جے پی کیلئے ہی کام کر رہے ہیں لیکن اس بار طریقہ بدل گیا ہے ۔ حکومت سے عوام اب کسی بھی قیمت پر مطمئن نہیں ہورہے ہیں تو ایسے میں حکومت کی مخالفت کے نام پر مخالف حکومت ووٹوں کو تقسیم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے ۔ یہ شبہات تقویت پانے لگے ہیں کہ بی جے پی ہی پرشانت کشور کو استعمال کر رہی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ ایک تیر سے دو نشانہ لگائے جائیں۔ ایک تو مہا گٹھ بندھن کو اقتدار پر آنے سے روکا جائے اور دوسرا نتیش کمار کا بھی بوریا بستر لپیٹ دیا جائے ۔ یہ کام پہلے چراغ پاسوان سے لیا گیا تھا لیکن چراغ بی جے پی کی توقع کے مطابق نتائج دلانے میں کامیاب نہیں ہو پائے تھے ۔ اسی لئے چند ماہ قبل سے ہی پرشانت کشور کو میدان میں اتار کر اپنی حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے ۔ بہار کے عوام میں بھی اس بات کا احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ پرشانت کشور ایک اچھے حکمت عملی کے ماہر ہوسکتے ہیں لیکن انتخابی میدان میں بازی مارنا ان کے بس کی بات نہیں ہے ۔
بی جے پی چاہتی ہے کہ کسی بھی قیمت پر مہا گٹھ بندھن بہار میں اقتدار حاصل کرنے نہ پائے ۔ یہی وجہ ہے کہ پرشانت کشور میدان میں نظر آ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے نام پر لاکھوں ووٹ خارج کردئے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نت نئے ہتھکنڈے اختیار کئے جا رہے ہیں۔ اور شائد یہی وجہ ہے کہ مہا گٹھ بندھن نے بھی بہار پر ساری توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنی کوششیں بھی تیز کردی ہیں۔ اب جبکہ دونوں ہی جانب سے ہر ممکن داؤ چلے جا رہے ہیں اور ہر کوشش کی جا رہی ہے تو دیکھنا یہ ہے کہ کیا پرشانت کشور بھی اروند کجریوال کی طرح بی جے پی کی کامیابی کا راستہ ہموار کر پاتے ہیں یا نہیں۔