کابل :امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے بعد کوئی کمرشل پرواز کابل ایئرپورٹ کا رخ نہیں کر رہی ہے جس کے بعد اکثر افغان زمینی راستوں کے ذریعہ سرحدی ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کابل ایئرپورٹ پر نہ تو کوئی ایئر ٹریفک کنٹرول نظام فعال ہے اور نہ ہی شہریوں کے انخلا کے لیے مزید پروازوں کا بندوبست کیا گیا ہے۔ایئرپورٹ کے انتظامات چلانے کے حوالے سے طالبان کے قطر اور ترکی کے ساتھ جاری مذاکرات کو حتمی شکل اختیار کرنے میں کئی دن یا ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔نجی ذرائع سے انخلا کی کوششوں میں شامل افراد نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ اکثر افغان شہری زمینی راستوں کے ذریعہ پاکستان یا وسطی ایشیائی ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔