پروفیسرس کے ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا کر 65 سال کرنے کا جائزہ

   

ہائیر ایجوکیشن کونسل کی حکومت کو تجویز ، 73 فیصد پروفیسرس کی جائیدادیں مخلوعہ
حیدرآباد۔/12 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کونسل آف ہائر ایجوکیشن نے ریاست کی یونیورسٹیز میں پروفیسرس کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے بڑھا کر 65 سال کرنے کی حکومت کو تجویز پیش کی ہے۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے تحت 12 یونیورسٹیز ہیں ان میں 2,817 پروفیسرس کی منظورہ جائیدادیں ہیں تاہم فی الحال 757 پروفیسرس خدمات انجام دے رہے ہیں اور 2060 جائیدادیں ( 73 فیصد ) مخلوعہ ہیں۔ ہر ماہ عثمانیہ یونیورسٹی، جے این ٹی یو ایچ، کاکتیہ یونیورسٹی میں دو یا تین پروفیسرس اپنی خدمات سے سبکدوش ہورہے ہیں۔ مثال کے طور پر عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم میں صرف دو پروفیسرس رہ گئے ہیں انہیں تمام یونیورسٹیز کے ڈین ۔ بورڈ آف اسٹڈیز کا صدرنشین بننے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ مسابقی امتحانات کے انعقاد کیلئے کنوینر مقرر کرنے کیلئے بھی پروفیسرس موجود نہیں ہیں۔ مہاتما گاندھی یونیورسٹی کی جانب سے انعقاد کئے جانے والے پی ای سیٹ (فزیکل ایجوکیشن ) شاتا واہنا یونیورسٹی کے ایڈ سیٹ کنوینر کی حیثیت سے عثمانیہ یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ دوسری جانب یونیورسٹیز گورنمنٹ ڈگری کالجس میں پروفیسرس کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے کالج سرویس کمیشن تشکیل دینے کی تجویز ہے۔ ریاست میں سرکاری ملازمین کے ریٹائرمنٹ کی عمر کو بڑھاکر 61 سال کردیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں یونیورسٹیز میں غیر تدریسی ملازمین کے ریٹائرمنٹ کی عمر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تاہم پروفیسرس 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہورہے ہیں۔ دوسری جانب بی آر ایس حکومت نے میڈیکل کالجس کے پروفیسرس کی حد عمر بڑھاکر 65 سال کردی تھی۔ دوسری ریاستوں میں پروفیسرس کے ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہے۔ آندھرا پردیش میں بھی 65 سال ہے جبکہ تلنگانہ میں یہ 60 سال ہے۔ ریاست میں 73 فیصد پروفیسرس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ آئندہ ایک سال بعد مزید 50 سے زیادہ پروفیسرس ریٹائر ہوجائیں گے جس کے پیش نظر عثمانیہ یونیورسٹی ٹیچرس اسوسی ایشن کے نمائندے وزراء سے ملاقات کرتے ہوئے پروفیسر کے ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کرنے کا دباؤ بنارہے ہیں۔ یہ دیکھنا ہے کہ اس نئی تجویز پر حکومت کا فیصلہ کیا ہوگا۔2