پروپگنڈہ فلم پر ہنگامہ

   

لگائے مُہر بیٹھے ہیں سبھی اپنی زبانوں پر
مگر سچائی کہنے پر کوئی مائل نہیں ہوتا

مختلف شعبہ جات میں ہندوستان کی دنیا بھر میں اپنی ایک انفرادی پہچان ہے ۔ مخصوص شعبہ جات میں ہندوستان کی جانب سے جو کارہائے نمایاں انجام دئے جاتے ہیں ان کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ انہیں میںفلمی صنعت بھی شامل تھی ۔ ہندوستانی فلموں کے ذریعہ زمانہ قدیم سے ہی ایک پیام دیا جاتا رہا ہے ۔ کبھی غربت کو ختم کرنے کی کوششوں کو اجاگر کیا گیا تو کبھی مزدوروں کے حقوق پر فلمیں بنائی گئیں۔ کبھی خاندانی اقدار کو پروان چڑھانے کی فلموں کے ذریعہ کوشش کی گئی تو کبھی سماج کے سلگتے ہوئے مسائل پر ناظرین کو باشعور بنانے کی کوشش کی گئی ۔ کبھی بنیادی اور حساس نوعیت کے مسائل پر بھی فلمیں بنی ہیں تو کبھی ملک کے عوام میں حب الوطنی کے جذبہ کو پروان چڑھانے والی فلموں نے بھی شائقین کو لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی فلمی ستاروں کی دنیا بھر میں بے انتہاء مقبولیت رہی ہے ۔ ہندوستانی فلمی صنعت کو بالی ووڈ کے بعد ایک طرح سے دوسری سب سے بڑی فلمی صنعت سمجھا جاتا ہے ۔ تاہم حالیہ عرصہ میں دیکھا گیا ہے کہ پروپگنڈہ فلمیں بنانے کی روش شروع کی جا رہی ہے ۔ انہیں میں ایک فلم بنی تھی ’ دی کشمیر فائیلس ‘ ۔ اس فلم کے ذریعہ فلم سازوں کا کہنا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی وادی کشمیر سے بے دخلی کو پیش کرنے اور ان کو جو مسائل درپیش ہوئے انہیں اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس فلم کے ذریعہ نفرت کو ہوا دی گئی ہے ۔ حقائق کو من و عن پیش نہیں کیا گیا ہے ۔ ایک مخصوص رنگ اور انداز میں ڈھالتے ہوئے فلم بینوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ایک مخصوص سیاسی سوچ و فکر کو اس فلم کے ذریعہ عام کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو فلموں کی بنیادی جو روش اب تک رہی ہے اس کے مغائر ہی کہی جاسکتی ہے ۔ اس فلم کی ریلیز کے وقت سے ہی اس تعلق سے ناقدانہ تبصرے مسلسل کئے جاتے رہے ہیں۔ حالانکہ فلم ساز اور اداکار کی جانب سے اس کی تردید کی جاتی رہی ہے اور فلم کی مخصوص گوشوں کی جانب سے زبردست تشہیر بھی کی گئی ہے لیکن اس پر تنقیدیں بھی خاصی ہوئی ہیں۔
یہ تاثر بھی عام ہے کہ اس فلم کو بالواسطہ طور پر سرکاری سرپرستی بھی حاصل رہی ہے تاہم اس کے کوئی ثبوت و شواہد دستیاب نہیں ہیں ۔ ایک بات ضرور ہے کہ اس کے ذریعہ کچھ گوشوں کی جانب سے سماج میں نفرت کو ہوا دینے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے ۔ ہندوستانی فلموںکی اب تک کی جو انفرادیت رہی تھی وہ بھی اس فلم کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے ۔ فلم بینوں کو محض تفریح فراہم کرنے کی بجائے انہیں ایک پیام پہونچانے کی جو روایت بالی ووڈ کی فلموں میں رہی تھی اس کو بتدریج تبدیل کیا جا رہا ہے ۔ یہ بھی اطلاعات ہے کہ کچھ دوسرے گوشوں کی جانب سے بھی علاقائی متنازعہ امورپر فلمیں بناتے ہوئے ملک کے ماحول کو پراگندہ کرنے اور عوام میں بے چینی پیدا کرنے کی کوششیں بھی ہونے لگی ہیں۔ جو نزاعی اور اختلافی مسائل رہے ہیں ان کو پیش کرتے ہوئے سیاسی منظرنامہ پر اثر انداز ہونے کا یہ نیا طریقہ اختیار کیا گیا ہے لیکن اس کے ذریعہ ہندوستانی فلمی صنعت کی دنیا بھر میں جو منفرد شناخت رہی تھی وہ متاثر ہونے لگی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ گوا میں منعقدہ فلم فیسٹول میں جیوری کی جانب سے اس فلم کو واہیات اور پروپگنڈہ فلم قرار دیا گیا ۔ اس کے بعد ایک طرح سے ہنگامہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ۔ مباحث شروع ہوگئے اور بے تحاشہ تبصرے کئے جانے لگے ۔ یہ فلم ریلیز بھی ہوچکی تھی اور اس کا تذکرہ اب ختم بھی ہوچکا تھا تاہم اس کو دوبارہ موضوع بحث بنانے کی حکمت عملی کے تحت کام کیا گیا اور اس کے ذریعہ فلم کی دوبارہ تشہیر بھی ہونے لگی ہے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں سیاسی مداخلت سے گریز کیا جائے ۔ ہر شعبہ کو ایک مخصوص رنگ میں رنگنے یا مخصوص انداز میں ڈھالنے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ ہر ایک شعبہ کو دستور اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے آزادانہ کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے جس کے ذریعہ اختراعی اور تخلیقی صلاحتوں کو نکھارا اور ابھارا جاسکتا ہے ۔ ہر مسئلہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے سے بھی گریز کیا جانا چاہئے ۔ ملک کے سماجی تانے بانوں کو بکھرنے سے بچانے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔ نفرت کو ہوا دینے اور اسے فروغ دینے کی بجائے ہر شعبہ کی جانب سے نفرت کو ختم کرنے کی کوشش بھی کی جانی چاہئے ۔