پرچہ نامزدگی کے استرداد میں کانگریس قائدین کی کوئی سازش نہیں: میناکشی نٹراجن

   

تلنگانہ سے راجیہ سبھا نشست نہیں لوں گی، ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں درخواست
حیدرآباد۔ 21 جون (سیاست نیوز) اے آئی سی سی جنرل سکریٹری انچارج تلنگانہ میناکشی نٹراجن نے واضح کیا کہ وہ تلنگانہ میں کسی رکن راجیہ سبھا کے استعفی کے ذریعہ راجیہ سبھا کی نشست حاصل نہیں کریں گی۔ انہوں نے مدھیہ پردیش میں راجیہ سبھا الیکشن میں پرچہ نامزدگی مسترد کئے جانے کو بی جے پی کی سازش کا نتیجہ قرار دیا۔ گاندھی بھون میں صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور اے آئی سی سی سکریٹری سچن ساونت کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میناکشی نٹراجن نے کہا کہ وہ مدھیہ پردیش سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ تلنگانہ کے کسی رکن کو استعفی دلاکر راجیہ سبھا کی نشست حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی موجودہ رکن کی میعاد کو ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ نٹراجن نے کہا کہ وہ تین مرتبہ لوک سبھا کے لئے مقابلہ کرچکی ہیں اور تلنگانہ قائدین سے کوئی حق تلفی نہیں کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ پرچہ نامزدگی کے مسترد کئے جانے کیلئے تلنگانہ کے کانگریس قائدین کی جانب سے سازش کے الزامات پر وہ یقین نہیں رکھتیں۔ انہوں نے کہا کہ سازش تو بی جے پی نے کی اور 10 ارکان کی کمی کے باوجود تیسرا امیدوار میدان میں اتارکر اپنی سازش کا ثبوت دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی عدالت کی جانب سے انہیں نوٹس کی اجرائی کی بنیاد پر پرچہ نامزدگی مسترد کردیا گیا جبکہ محض نوٹس کی اجرائی مقدمہ تصور نہیں کی جاسکتی۔ ریٹرننگ آفیسرس نے الیکشن کمیشن کے قواعد کی خلاف ورزی کرکے بی جے پی قائدین کے دباؤ میں پرچہ نامزدگی مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مشورہ پر وہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں تین نشستوں کے لئے فی کس 58 ارکان کی ضرورت تھی۔ کانگریس کے پاس درکار تعداد موجود ہے لہذا مجھے امیدوار بنایا گیا۔ بی جے پی کے پاس 10 ارکان کی کمی ہے باوجود اس کے تیسرے امیدوار کو میدان میں اتارکر سازش کی گئی۔ دولت کی لالچ اور ہراسانی کے ذریعہ کانگریس ارکان کو متاثر نہیں کیا جاسکا تو عدالت کی ایک نوٹس کو بنیاد بناکر پرچہ نامزدگی مسترد کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن پوری طرح بی جے پی کے اشارے پر کام کررہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پرچہ نامزدگی میں کہیں بھی یہ گنجائش نہیں ہے کہ نوٹس کا تذکرہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے سے مایوس نہیں ہیں اور انصاف کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع ہوں گی۔ میناکشی نٹراجن نے ان کے خلاف بعض کانگریس قائدین کی سازش کے اندیشوں کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک نشست کیلئے کانگریس نے متحدہ جدوجہد کی ہے، کوئی بھی میرے خلاف سازش نہیں کرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں نٹراجن نے کہا کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ کسی نے سازش کی ہو تب بھی ریٹرننگ آفیسر نے الیکشن کمیشن کے قواعد کی خلاف ورزی کرکے اصل سازش کی ہے۔ انہوں نے تلنگانہ میں کسی ایک رکن راجیہ سبھا سے استعفی حاصل کرکے انہیں راجیہ سبھا کیلئے نامزد کرنے سے متعلق اطلاعات کی تردید کی اور کہا کہ ان خبروں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ اپنی نشست کیلئے کسی کو میعاد سے پہلے مستعفی کرانا میرا اصول نہیں ہے۔ 1؍F