پریاگ راج کے مشہور راجو پال قتل کیس کے اہم گواہ امیش پال اور ان کے سیکورٹی گارڈ سندیپ نشاد کو جمعہ کی شام گولی مار دیے جانے کے معاملے میں کل ودھان سبھا میں کافی ہنگامہ ہوا۔ اس کا جواب دیتے ہوئے اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اتفاق اور اختلاف ہوگا لیکن مجرموں کو کس نے بڑھایا؟ یہ مجرم اور مافیا آخر کس نے پالے ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جس شخص کے خلاف ایف آئی آر درج ہے اسے ایس پی نے ایم پی بنایا تھا؟ مجرم کو سامنے لاؤ گے پھر تماشا لگاؤ گے۔ ہم اس مافیا کو زمین بوس کر دیں گے اس سے قبل سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا تھا کہ اتر پردیش میں فائرنگ، بم دھماکے اور گینگ وار کی طرح نظر آنے کی وجہ سے یہ حکومت پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ کیا یہی رام راجیہ ہے جہاں کھلے عام بندوقیں چلائی جا رہی ہیں؟ پولیس پوری طرح ناکام ہے اور اس کے لیے بی جے پی ذمہ دار ہے یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ جس طرح سے کچھ لوگوں نے رام چرت مانس کو پھاڑنے کی کوشش کی، اگر کسی اور مذہب کے ساتھ ایسا ہوتا تو کیا ہوتا؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ہندوؤں کی توہین کرنا چاہتا ہے؟ کیا تم پورے معاشرے کو نیچا دکھانا چاہتے ہو۔