کولمبو : سری لنکا میں صدارتی انتخابات سے ٹھیک ایک دن قبل اپوزیشن لیڈر ساجیت پریم داسا نے منگل کو اپنی نامزدگی واپس لینے کا اعلان کیا۔سری لنکا کے سابق صدر کے بیٹے پریم داسا نے ٹویٹ کیاکہ “ہمارے ملک کی بھلائی کے لیے ، جس سے میں بہت پیار کرتا ہوں اور جن لوگوں سے میں پیار کرتا ہوں۔ میں صدارت کے لیے اپنی امیدواری واپس لے رہا ہوں۔انہوں نے حکمراں جماعت سے کہا کہ وہ اپنے حریف دلاس الہاپاروما کی حمایت کریں۔ پریم داسا نے کہاکہ ہمارا اتحاد اور ہمارے مخالف اتحادی دلاس الہاپاروما کو فاتح بنانے کے لیے سخت محنت کریں گے ۔
“مسٹر پریم داسا کی سماگی جیا بالویگیا (ایس جے بی) پارٹی کے ایک رکن نے کہا کہ مسٹر پریم داسا نے صدارتی دوڑ سے دستبرداری کا فیصلہ اس لیے لیا کیونکہ وہ وزیر اعظم کا عہدہ حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ملک کی 225 پارلیمانی نشستوں میں سے 54 جیتنے والے ایس جے بی کے رکن نے کہاکہ “ہمارا ہدف وزیر اعظم کا عہدہ ہے ۔”صدارتی دوڑ اب نگراں صدر رانیل وکرما سنگھے ، حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے دلاس الہاپاروما اور سری لنکا کی سب سے بڑی بائیں بازو کی جماعت کی رہنما انورا کمارا دیسانائیکے کے درمیان ہے ۔ مسٹر وکرما سنگھے کو حکمران جماعت کی حمایت حاصل ہے اور ان کے پاس پارلیمنٹ میں 145 نشستوں کی اکثریت ہے ۔یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ مسٹر وکرما سنگھے ملک کے اگلے صدر بن سکتے ہیں۔ایس جے بی کے نیشنل آرگنائزر نے پیر کو کہا تھا کہ اگر وکرما سنگھے صدر بنے تو مسٹر پریم داسا وزیر اعظم کا عہدہ قبول نہیں کریں گے ۔