پرینتھا کمار اکے مشتبہ قاتلوں کا مقدمہ لڑنے سے انکار

   

سیالکوٹ ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن کافیصلہ،ماب لنچنگ کے خلاف بیداری پیدا کرنے کا عزم

اسلام آباد: سری لنکن شہری پرینتھا کمارا کے قتل کیس میں ملزمان کا مقدمہ لینے سے سیالکوٹ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے انکار کر دیا۔انگریزی روزنامہ ‘ڈان ’ کی رپورٹ کے مطابق سری لنکن شہری کے قتل کے اندوہناک واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے اجلاس میں ارکان کی اکثریت نے فیصلہ کیا کہ ملزمان کی جانب سے کوئی وکیل مقدمہ کی پیروی نہیں کرے گا۔دوسری جانب سیالکوٹ پولیس نے پرینتھا کمارا کے قتل کیس میں مزید 8 ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا۔جس فیکٹری میں مقتول سری لنکن شہری سینئر منیجر تھے اس کے مزدوروں کو گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت نے ملزمان کو 13 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالہ کر دیا اور حکم دیا کہ ملزمان کو 21 دسمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے ۔ملزمان کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ان لوگوں پر پرینتھا کمارا کو فیکٹری کی چھت پر تشدد کا نشانہ بنانے ، اس کی لاش کو سڑک پر گھسیٹنے اور بعد میں آگ لگانے کا شبہ تھا۔دو روز قبل پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے 26 ملزمان کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔ذرائع کے مطابق پولیس نے سیالکوٹ، گجرات، نارووال، لودھراں، رحیم یار خان اور گوجرانوالہ سمیت دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے مشتبہ افراد کو بھی کیس میں گرفتار کیا ہے ۔قانون نافذ کرنے والے ادارے سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے مشتبہ افراد کی شناخت کر رہے ہیں اور انہیں موبائل فون ڈیٹا اور دیگر تکنیکی ذرائع کی مدد سے گرفتار کر رہے ہیں۔اب تک راجکو انڈسٹریز کے 345 ورکرز کو گرفتار کر کے تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے ۔