شمعیں روش روش پہ فروزاں کئے ہوئے
دشواریاں ہیں زیست کو آساں کئے ہوئے
اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کیلئے سیاسی جماعتوںکی تیاریاں زور و شور سے شروع ہوگئی ہیں اور عوام کو رجھانے کیلئے وعدوں کا موسم بھی آگیا ہے ۔ اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ ملک کی کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی کی جانب سے فرقہ وارانہ نوعیت کے مسائل کو ہوا دی جاتی ہے ۔ اشتعال انگیز ریمارکس اور تقاریر کی جاتی ہیں۔ سماج میں دوریاں اور نفرت پیدا کی جاتی ہے ۔ بنیادی اور حساس نو عیت کے مسائل سے توجہ ہٹانے کی مہم شدت اختیار کرجاتی ہے ۔ تاہم کچھ ریاستوں میں بی جے پی کی یہ مہم کامیاب نہیں ہوئی حالانکہ کئی ریاستوں میں اسے اس مہم سے کامیابی بھی ملی تھی ۔ دہلی اسمبلی انتخابات کو انتہاء درجہ تک فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی لیکن وہاں بی جے پی کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ بہار میں اسمبلی انتخابات ہوئے وہاں بھی بی جے پی نے یہی طریقہ کار اختیار کیا تھا تاہم کچھ مفاد پرستوں اور آلہ کاروں کی وجہ سے پارٹی بمشکل تمام اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب رہی تھی ۔ مغربی بنگال میں بھی ماحول کو پراگندہ کرنے کا ہر ہتھکنڈہ اختیار کیا گیا تھا بلکہ یہاں تو تین سال قبل سے ہی ماحول خراب کرنے کی کوششیں ہوتی رہی تھیں لیکن ممتابنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس نے اقتدار پر شاندار واپسی کی تھی ۔ دہلی میں اروند کجریوال نے عوامی خدمات کا نعرہ پوری شدت سے دیا تھا اور فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی جس سے وہ کامیاب رہے ۔ اسی طرح بہار میں آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے ووٹرس کے مسائل کو پیش کرنے کی کوشش کی اور عوامی مسائل کو پیش کیا تھا جس کی وجہ سے وہ بی جے پی کو تقریبا شکست دینے کے قریب پہونچ گئے تھے ۔ اسی طرح بنگال میں بھی ترنمول کانگریس نے بھی اپنی خدمات کے ریکارڈ کو پیش کیا اور ماحول کی پراگندگی کو فروغ نہیں دیا تھا جس کی وجہ سے اسے بھی وہاں شاندار کامیابی حاصل ہوئی ۔ اب اتردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں اور بی جے پی یہاں بھی ماحول کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے ہتھکنڈوں کا آغاز کرچکی ہے ۔
تاہم کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا اترپردیش میں ایک منصوبہ کے ساتھ میدان میں اترتی نظر آ رہی ہیں۔ انہوں نے ابھی سے انتخابات کا ایجنڈہ طئے کرنے کی کوشش کی ہے اور عوامی مسائل کو پیش کیا ہے ۔ انہوں نے عوام سے وعدے کرتے ہوئے ساری ریاست میں پرتگیا یاترا شروع کی ہے ۔ ریاست کے کئی اضلاع سے یہ ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ پرینکا نے سب سے پہلے پارٹی کی جانب سے 40 فیصد ٹکٹس خواتین کو دینے کا اعلان کیا ہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے 20 لاکھ روزگار اور ملازمتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ 10 لاکھ روپئے تک کا مفت علاج فراہم کرنے کی بات کہی ہے ۔ کسانوں کے قرض اور برقی بلز معاف کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ 12 ویں پاس لڑکیوں کو اسمارٹ فونس اور گریجویٹ لڑکیوں کو ای اسکوٹی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس طرح سے پرینکا گاندھی نے سماج کے تمام اہم طبقات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنا ایجنڈہ تیار کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ کورونا بحران کی وجہ سے معاشی مشکلات کاشکار ہوچکے خاندانوں کو 25 ہزار روپئے کی معاشی امداد فراہم کی جائے گی ۔ پرینکا گاندھی نے جو وعدے کئے ہیں وہ عوامی توجہ حاصل کرسکتے ہیں لیکن کانگریس کو ریاست میں اقتدار ملنا بہت زیادہ مشکل نظر آتا ہے اس کے باوجود انہوں نے جو وعدے کئے ہیں ان ے در اصل ریاست میں انتخابات کا ایجنڈہ طئے کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ووٹنگ کے امکانات متاثر ہونگے ۔
اترپردیش میں انتخابات کے موقع پر اکثر و بیشتر فرقہ پرستی کو ہوا دی جاتی ہے ۔ کئی تنظیمیں سرگرم ہوجاتی ہیں۔ بی جے پی کے قائدین کی جانب سے اور خود چیف منسٹر کی جانب سے اشتعال انگیز ریمارکس کئے جاتے ہیں۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں تو خود وزیر اعظم نے شمشان ۔ قبرستان جیسے ریمارکس کئے تھے جس پر انہیں تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ ایسے ماحول میں کانگریس لیڈر نے عوامی مسائل کو اصل انتخابی ایجنڈہ اور مسئلہ بنانے کی کوشش کی ہے اور اترپردیش کے عوام کو بھی اس جانب توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ فرقہ پرستی کو ختم کرنے کیلئے عوامی مسائل کو ذہن میں رکھتے ہوئے انتخابات میں فیصلہ کیا جانا چاہئے ۔
