وفا کریں گے، نباہیں گے، بات مانیں گے
تمھیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
ملک کی سب سے بڑی اور سیاسی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ریاست اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کا بگل بجنے کے بعد سے سیاسی منظر نامہ بہت تیزی کے ساتھ بدلتا جا رہا ہے ۔ جو حالات آج ہیں وہ کل دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ جو ماحول چند ماہ قبل بنا ہوا دکھائی دے رہا تھا وہ اب موجود نہیں ہے ۔ ہر روز نئے امکانات رائے دہندوں کے سامنے آتے جا رہے ہیں اور سیاسی پنڈت بھی موجودہ حالات میں کسی طرح کے تبصرے کرنے کے موقف میں نظر نہیں آتے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک مخصوص طبقہ اور گودی میڈیا کے زر خرید اینکرس عوام کے سامنے ایک ہی رخ پیش کرنے کی کوشش کرتے جا رہے ہیں۔ بدلتے حالات سے عوام کو واقف کروانے کی اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کر رہے ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھ رہے ہیں۔ اترپردیش میں اقتدار کی دو جماعتیں ہی دعویدار ہیں۔ بی جے پی موجودہ اقتدار پر ہے اور وہ اسے بچانے کی تگ و دو کر رہی ہے جبکہ سماجوادی پارٹی جو سابق میں برسر اقتدار تھی ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنے اور بی جے پی کو بیدخل کرنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا رہی ہے ۔ ماضی میں ریاست کی سیاست میں انتہائی اہم رول ادا کرنے والی بہوجن سماج پارٹی بھی ایسا لگ رہا ہے کہ کہیں پس منظر میں چلی گئی ہے ۔ کانگریس کا ریاست میں کوئی خاص وجود نہیں ہے ۔ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کو اترپردیش کیلئے پارٹی جنرل سکریٹری بنایا گیا ہے اور وہ گذشتہ کچھ وقت سے ریاستی حکومت کے خلاف عوام میں سرگرم ہیں۔ وہ ریاست کی سیاست میں کانگریس کیلئے جگہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ پرینکا گاندھی نے آج اشارہ دیا ہے کہ وہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کرسکتی ہیں۔ یہ ایک ایسا اشارہ ہے جس سے ریاست میں کانگریس کے حوصلے چھوڑ چکے کارکنوں کے حوصلوں میں نئی جان ڈالی جاسکتی ہے ۔ ویسے تو ایک طویل عرصہ سے اقتدار سے پارٹی کی دوری نے کارکنوں کے حوصلے پوری طرح سے پست کردئے ہیں۔ پرینکا گاندھی انہیںجھنجھوڑنے کی اپنے طور پر کوشش کر رہی ہیںتاہم یہ کوشش کس حد تک کامیاب ہوسکتی ہے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔
پرینکا گاندھی نے آج کے انٹرویو میں جو اشارہ دیا ہے کہ وہ انتخابات میں مقابلہ کرسکتی ہیں وہ ایک طرح سے کارکنوں کے موڈ کو پرجوش بنانے کی کوشش ہے ۔ اگر و اقعی وہ مقابلہ کرتی ہیں تو یقینی طور پر کچھ حلقوں میں وہ پارٹی کے امکانات کو مزید بہتر بناسکتی ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ خواتین کے ساتھ زبردستی اور مظالم کے کچھ واقعات میں پرینکا گاندھی نے جدوجہد کرتے ہوئے عوام میں ایک طرح سے مباحث میں جگہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے خواتین پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ’ لڑکی ہوں۔ لڑسکتی ہوں ‘ کا نعرہ دیتے ہوئے بھی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انہیںچند ماہ قبل یوگی حکومت نے جیل بھیجتے ہوئے بھی ان کی مقبولیت کا گراف بہتر بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ انہوں نے نوجوانوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے آج یوتھ منشور بھی جاری کیا ہے ۔ وہ مخصوص طبقات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے انتخابات کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں ۔ ان ساری کوششوں میں اگر وہ بذات خود انتخابات میں مقابلہ کا اعلان کرتی ہیں تو اس سے یقینی طور پر پارٹی کے امکانات میں کچھ بہتری ضرور آسکتی ہے ۔ اس سے ریاست کے عوام کو یہ پیام بھی دیا جاسکتا ہے کہ وہ ریاست کی سیاست میں پارٹ ٹائم نہیں ہیں بلکہ وہ پوری طرح سے ریاست کی سیاست کا حصہ بن رہی ہیں۔ اگر وہ انتخابات میں مقابلہ کرتی ہیں تو چیف منسٹر کا چہرہ بھی ہوسکتی ہیں حالانکہ یو پی میں اقتدار کانگریس کیلئے اب بھی ’’ ہنوز دلی دور است ‘‘ والی بات ہی ہے ۔
پرینکا گاندھی نے آج جو اشارہ دیا ہے وہ بھی ایک سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے عوام میں مباحث کیلئے ایک موضوع پیش کردیا ہے ۔ وہ عوام کی رائے حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ پارٹی کو چرچا کا حصہ بنانے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں۔ اترپردیش میں سات مراحل میں انتخابات ہونے ہیں اور ایک طویل انتخابی سفر ہے ۔ ایسے میں ان کے پاس فیصلہ کرنے کیلئے وقت کافی ہے ۔ وہ اس وقت کا استعمال کرتے ہوئے عوام کو چہ میگوئیوں کا موقع فراہم کر رہی ہیں اور لمحہ آخر میں اگر وہ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان بھی کرتی ہیں تو یہ پارٹی کے حق میں مثبت ہوسکتا ہے ۔ دوسری جماعتوں کیلئے بھی یہ ایک دلچسپ انتظار کہا جاسکتا ہے ۔
