جرائتمند و باصلاحیت خاتون کے پارلیمنٹ ہاوز پہنچنے پر عوامی مسائل گونجیں گے، بڑی سیاسی تبدیلی کا امکان
نرمل /24 نومبر ( جلیل ازہر) باحوصلہ سیاستدان پرینکا گاندھی کی وائناڈ سے تاریخ ساز کامیابی جو عملی سیاست کا آغاز ہے ۔ اب پرینکا گاندھی بلکہ ان کی شکل میں اندرا گاندھی آنجہانی کا داخلہ پارلیمنٹ میں ہوگا ۔ جس کا ملک کی عوام کو بڑی بے چینی سے انتظار تھا ۔ پرینکا گاندھی جن کی صلاحیت کا استعمال صرف انتخابی جلسوں میں پارٹی نے کیا ہے لیکن اب وہ خود عوام کے مسائل کو لیکر پارلیمنٹ ہاوز پہونچ رہی ہیں۔ اب ایک باصلاحیت خاتون کو ملک کی عوام پارلیمنٹ میں دیکھیں گے ۔ اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ سیاست ان کی وراثت ہے اور ان کی قربانیاں ایک مثال ہیں۔ پرینکا گاندھی کی دادی آنجہانی اندرا گاندھی کو بندوق کی گولیوں سے چھلنی کردیا گیا ۔ آنجہانی اندرا گاندھی کے لخت جگر راجیو گاندھی و سونیا گاندھی کا سہاگ اُجڑ گیا اس کے باوجود یہ خاندان ملک کی عوام کیلئے ان سب قربانیوں کے باوجود حوصلہ نہیں ہارا ۔ عوام کے درمیان رہتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ ملک کے وقار کو اور بھی بلند کرنے بالخصوص سیکوالرزم کی بقاء کیلئے راہول گاندھی اپنی بہن کے ہمراہ کئی ایک پروگرام کو عمل میں لاتے ہوئے بہت بڑی سیاسی تبدیلی لائی ۔ یہ الگ بات ہے کہ حکومت قائم نہ ہوسکی ۔ تاہم ملک کی عوام بالخصوص خواتین میں یہ تبصرہ عام ہوا کرتا تھا کہ پرینکا گاندھی کو عملی سیاست میں آنا چاہئے ۔ آخرکار کیرالا میں وائناڈ کی نشست سے پرینکا نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا جہاں عوام نے ایک تاریخ ساز کامیابی لاتے ہوئے انہیں پارلیمنٹ بھیجا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ آنجہانی اندرا گاندھی پارلیمنٹ ہاوز آرہی ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کے محبت کیلئے ایسے لوگ ڈھونڈیں جن کا ماضی نے انہیں توڑ دیا ہو جن کی خواہش دم توڑ چکی ہوں ۔ جو جینا بھول چکے ہوں دراصل وہی لوگ زندگی کی حقیقت کو سمجھتے ہیں اور عوام کی مشکلات کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں درد کیا ہوتا ہے ۔ وہ کسی کے جذبات کے ساتھ نہیں کھیلتے ۔ حالات کچھ بھی ہوں ملک کی سیاست میں پرینکا گاندھی کی آمد بہت بڑی تبدیلی ثابت ہوگی ۔ آج مہاراشٹرا میں انڈیا اتحاد کی ناکامی اور جھارکھنڈ میں انڈیا اتحاد کی کامیابی کو لیکر ہر جگہ نتائج پر طرح طرح کی باتیں سنی جارہی ہیں ۔ لیکن فرقہ پرستوں کے عزائم سے مایوس نہیں ہونا چاہئے ۔ کیونکہ مایوسی گراتی ہے تو امید ہاتھ پکڑ کر پھر سے چلا دیتی ہے شاید یہی سونچ کر پرینکا گاندھی نے اپنے حوصلہ بلند رکھتے ہوئے عملی سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور کامیابی انہیں ملی ۔