پناہ گزینوں کے اعضاء کی اسمگلنگ کے الزام ، اسرائیلی شہری گرفتار

   

استنبول: ترک حکام نے انسانی اعضا کی اسمگلنگ کا الزام لگنے کے بعد ترکیہ میں تقریباً 7سال سے مقیم اسرائیلی شہری کو حراست میں لینے کا حکم دیا ۔ یہ ایک پرانا الزام ہے جس کا اسرائیلی شہری بورس دولفمین کو اس سے قبل 2015 میں بھی سامنا کرنا پڑا تھا ، تاہم 2016 میں ثبوت میں کمی کی وجہ سے اسے رہا کردیا گیا تھا ۔ ویب سائٹ نے اسرائیلی کے بارے میں ایک طویل رپورٹ شائع کرنے کے بعد ایک تعجب خیز انکشاف کیا اور کہا کہ وہ ممکنہ طور پر انسانی اعضاء کی اسمگلنگ کیلئے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کا رکن ہے اور اس نے قانونی آڑ میں شامی پناہ گزینوں کے اعضا خریدنے کیلئے ان کا استحصال کیا ہے ۔ ترکیہ جو صحت کی سیاحت اور زرعی مصنوعات کی تجارت کو فروغ دیتا ہے ، میں اس نے پناہ گزینوں کے اعضا کی اسمگلنگ کیلئے کئی کمپنیاں قائم کیں ۔ اسرائیلی وولف مین اس سے قبل جاری کئے گئے ریڈ وارنٹ کے مطابق ترک حکام کو مطلوب تھا ۔ اس پر شامی پناہ گزینوں کے اعضا کم از کم چھ دیگر افراد کے ساتھ آذربائیجان ، سری لنکا اور کوسوو جیسے کئی ممالک میں اسمگل کرنے کا الزام تھا ، جہاں وہ اس نیٹ ورک کا حصہ ہے جو غریب لوگوں کے اعضا خرید کر انہیں فروخت کرتا تھا ۔ یہ اعضاء اسرائیل ،ہندوستان اور یورپی ملکوں کے امیر لوگوں کو فروخت کئے جاتے ہیں ۔