خود تمہیں چاک گریباں کا شعور آجائے گا!
تم وہاں تک آ تو جائو ہم جہاں تک آگئے
پنجاب انتخابات اور عام آدمی پارٹی
ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بی جے پی کی ساری توجہ اترپردیش پر ہے جہاں وہ کسی بھی قیمت پر اپنا اقتدار بچانا چاہتی ہے ۔ اترکھنڈ پر بھی بی جے پی محنت کر رہی ہے تاہم اسے یہاں اقتدار کے بچ جانے کا یقین نہیں ہے ۔ گوا میں پارٹی کیلئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں جبکہ کانگریس کیلئے ساری کوشش پنجاب میں اقتدار کو بچانے کی ہے ۔ کانگریس نے پانچ سال قبل ریاست میں بی جے پی ۔شرومنی اکالی دل اتحاد کو اقتدار سے بیدخل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی تاہم اب ریاست میں پارٹی کیلئے حالات مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر کانگریس کے داخلی اختلافات اس کیلئے درد سر بن گئے ہیں۔ پردیش کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو پارٹی میں رہتے ہوئے اپوزیشن کی کمی کو پورا کر رہے ہیں۔ وہ حکومت پر اور چیف منسٹر پر مسلسل تنقیدیں کرتے ہوئے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ ان کی تنقیدوں اور سرگرمیوں کی وجہ سے کیپٹن امریندر سنگھ کی علیحدگی ہوئی اور انہوں نے کانگریس چھوڑ کر نئی علاقائی جماعت تشکیل دیدی ہے ۔ کانگریس اعلی قیادت کی جانب سے سدھو اور چیف منسٹر میں صلح صفائی کی کوششیں بھی کی گئیں لیکن سدھو کے طرز عمل میں کوئی سدھار نہیں آیا ہے ۔ اس صورتحال میں چیف منسٹر دہلی و کنوینر عام آدمی پارٹی اروند کجریوال نے پنجاب میں خاموشی کے ساتھ اپنی سرگرمیوں میں تیزی پیداکردی ہے ۔ وہ ریاست کے دورے بھی شروع کرچکے ہیں اور اپنی پارٹی کے منصوبوںاور پروگرامس کو عوام میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ کانگریس کے داخلی اختلافات سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بی جے پی اور شرومنی اکالی دل میں ریاست میں اقتدار کیلئے دعویداری پیش کرنے کی طاقت فی الحال نظر نہیں آتی ۔ کیپٹن امریندر سنگھ کی نئی جماعت بھی کس حد تک اثر انداز ہوگی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔ ایسے میں کجریوال کی عام آدمی پارٹی ریاست میں خود کو کانگریس کی واحد متبادل کے طور پر پیش کرنے میں سرگرم ہوگئی ہے ۔ پارٹی کو یہ امید ہونے لگی ہے کہ وہ اس بار ریاست کے عوام کی تائید و حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے ۔
جہاں تک کیڈر کی بات ہے تو عام آدمی پارٹی کا نیٹ ورک ریاست میں اس قدر مستحکم نظر نہیں آتا کہ وہ اکثریت پانے کی حد تک عوام پر اثرا نداز ہوسکے اور ان کی تائید حاصل کرسکے ۔ ساری توجہ اروند کجریوال کے دوروں اور ان کی مقبولیت کے علاوہ ان کے عوامی فائدہ کے اعلانات او اسکیمات پر مرکوز کی جا رہی ہے ۔ پارٹی کے پنجاب صدر بھگونت مان بھی اس کام میں زیادہ سرگرم ہوگئے ہیں اور وہ عوام میں اصول و اخلاقیات کا درس دے رہے ہیں۔ دہلی میں عوام کو فراہم کی جانے والی مفت خدمات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ۔ پنجاب کیلئے علیحدہ وعدے کئے جا رہے ہیں۔ یہ یقین دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جو وعدے کئے جا رہے ہیں انہیں پورا کیا جائیگا ۔ اس کیلئے دہلی کی مثال پیش کی جا رہی ہے ۔ دہلی کے اسکولس کا حوالہ دیا جا رہا ہے ۔ تاہم ایک بات ضرور محسوس کرنے کی ہے کہ دہلی کی طرح پنجاب میں کوئی مقبول عوامی چہرہ یا قد آور سیاسی لیڈر پارٹی میں موجود نہیں ہے ۔ پنجاب کی بہ نسبت دہلی ایک چھوٹی ریاست تھی اور یہاں اروند کجریوال کا چہرہ تھا ۔ پنجاب میں صرف بھگونت مان ایک عوامی چہرہ ہیں تاہم وہ کس حد تک ریاست کے عوام کو پارٹی سے قریب کرسکتے ہیں اور اسے کس حد تک کامیابی دلا سکتے ہیں یہ ابھی سے کہنا قبل از وقت ہوگا ۔ اسی لئے کجریوال ایسا لگتا ہے کہ کانگریس کے داخلی اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اثر انداز ہونا چاہتے ہیں اور وہ کھل کر کانگریس اور اس کے قائدین اور خاص طور پر چیف منسٹر پر تنقیدیں کر رہے ہیں۔
دہلی میں عوام کو سہولیات فراہم کرنے والی حکومت کا تاثر کامیابی سے پیدا کرنے کے بعد کجریوال نے پنجاب پر خاص توجہ دی ہے ۔ اس سے قبل پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے چار ارکان پارلیمنٹ بھی منتخب ہوئے تھے ۔ اسمبلی انتخابات میں حالانکہ پارٹی کی کارکردگی قابل قدر نہیں تھی لیکن اس بار پارٹی ساری توجہ کے ساتھ مقابلہ کرنے کی تیاریاںکر رہی ہے ۔ کانگریس کو اس کا راست نقصان بھی ہوسکتا ہے ۔ تاہم ابھی یہ دعوی کے ساتھ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عام آدمی پارٹی اپنی ساری کوششوں اور مفت عوامی سہولیات کی اسکیمات کے باوجود پنجاب میں عوام کی تائید حاصل کرتے ہوئے اقتدار حاصل کر پائے گی یا نہیں ۔
