پنجاب ‘ ماحول بگاڑنے کی کوششیں

   

Ferty9 Clinic

سوچتا ہوں تو وہ جاں سے بھی زیادہ ہیں عزیز
دیکھتا ہوں تو نظر آتے ہیں بیگانے سے
آئندہ سال کے اوائل میں ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اترپردیش کے بعد پنجاب سیاسی اعتبار سے دوسری اہمیت کی حامل ریاست ہے جہاں ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ ریاست میں سیاسی منظر نامہ بڑی تیزی سے تبدیل ہونے لگا ہے ۔ چند ماہ قبل تک یہاں برسر اقتدار کانگریس کیلئے حالات بالکل مستحکم اور سازگار نظر آ رہے تھے ۔ حالیہ مہینوں میں عام آدمی پارٹی نے یہاںاپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے اور وہ کانگریس کی متبادل کے طور پر ابھرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ پارٹی سربراہ اروند کجریوال مسلسل ریاست کے دورے کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بی جے پی نے کانگریس سے علیحدگی کے بعد نئی جماعت قائم کرنے والے کیپٹن امریندر سنگھ سے اتحاد کرلیا ہے ۔ اکالی دل نے جو برسوں بی جے پی کے ساتھ رہی تھی اب بہوجن سماج پارٹی سے اتحاد کیا ہے ۔ مسلسل بدلتے حالات میں پنجاب کے پرجوش ماحول کو اچانک ہی بگاڑنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں مذہبی دلآزاری کے دو مذموم واقعات پیش آئے ہیں جن کے نتیجہ میں ریاست کا ماحول کشیدہ ہوسکتا ہے اور اس کا مفادات حاصلہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ ہفتے کی رات کو ایک نامعلوم شخص نے سنہری گردوارہ میں گھس کر وہاں مذموم حرکت کی اور سکھوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ۔ اس شخص کو وہاں پیٹ پیٹ کے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ ابھی اس واقعہ پر عوام کے جذبات شدید تھے ہی کہ آج صبح کی اولین ساعتوں میں کپور تھلہ میں ایک اور سنگین واقعہ پیش آیا ۔ کہا جا رہا ہے کہ وہاں بھی ایک شخص گردوارہ میں داخل ہو کر وہاں لگے سکھوں کے پرچم کو نکالنے کی کوشش کی ۔ یہ بھی سکھوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچانے والی حرکت تھی ۔ پولیس حالانکہ یہ دعوی کر رہی ہے کہ اس شخص نے چوری کی نیت سے یہ کام کیا تھا لیکن عوام کے جذبات کو ٹھیس پہونچاتے ہوئے ماحول کو کشیدہ کردیا گیا ہے ۔ یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آ رہے ہیں جبکہ ریاست میں آئندہ سال کے اوائل میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس کیلئے اعلامیہ کسی بھی وقت جاری کیا جاسکتا ہے ۔
مذہبی جذبات کے استحصال اور انہیں مجروح کرنے اور ایسی توہین آمیز حرکتیں پنجاب میں ایک انتہائی جذباتی مسئلہ ہے ۔ ویسے بھی کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کیلئے ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچانے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی اور سبھی کیلئے اپنے مذہب کی مبینہ توہین یا ہتک ناقابل برداشت ہی ہوتی ہے ۔ پنجاب کے عوام خاص طور پر اس معاملے میں زیادہ حساس ہوتے ہیں اور اسی نوعیت کے مسئلہ پر پیدا ہونے والے اختلافات کی وجہ سے کیپٹن امریندر سنگھ کو چیف منسٹر کا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا ۔ امریندر سنگھ پر الزام ہے کہ انہوں نے ماضی میںپیش آنے والے ہتک اور توہین کے واقعات کی روک تھام کیلئے سنجیدگی سے اقدامات نہیں کئے تھے ۔ پردیش کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو نے اسی مسئلہ کو اب بھی اہمیت کا حامل بنایا ہوا ہے اور وہ موجودہ چیف منسٹر چرنجیت سنگھ چنی سے کچھ ایسے عہدیداروں کے تقرر کی مخالفت کر رہے ہیں جو ایسے مقدمات سے نمٹنے میں ناکام رہے تھے ۔ پنجاب کی جو سماجی صورتحال ہے و ہ اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہاں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچائی جائے یا انہیں مجروح کیا جائے ۔ ماضی میں اگر اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کئے گئے ہوتے تو صورتحال پر قابو پانے میں آسانی ہوتی ۔ آج اس طرح کے واقعات کا اعادہ شائد نہیں ہوپا تا ۔ موجودہ حکومت کو بھی اس معاملے میںکسی تن آسانی سے کام لئے بغیر انتہائی سختی کے ساتھ ایسے واقعات کی روک تھام کرنی چاہئے ۔
پنجاب میں سیاسی ماحول گرم ہوتا جا رہا ہے ۔ ہر جماعت اپنی اپنی تیاریوں میں جٹ گئی ہے ۔ ایسے میں معمولی سی بات بھی کسی بڑے تنازعہ کا سبب بن سکتی ہے ۔ خاص طور پر مذہبی جذبات کے استحصال کی کوششیں ہوسکتی ہیں۔ حکومت کو یہ پتہ چلانے کی ضرورت ہے کہ ایسی قابل مذمت حرکتوں کے پس پردہ کوئی سازش تو نہیں ہے کہ ریاست کے ماحول کو پراگندہ کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کیا جاسکے ؟ ۔ ایسے واقعات کے پس پردہ عناصر کا پردہ فاش کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہونچایا جانا چاہئے تاکہ دوسروں کیلئے یہ لوگ عبرت بن سکیں اور کسی اور کی ایسی مذموم حرکتوں کی جراء ت نہ ہونے پائے ۔