عام آدمی پارٹی نے پنجاب میں مثالی کامیابی درج کی ہے ۔ اس نے 117 اسمبلی حلقوں میں 90 پر کامیابی درج کرتے ہوئے زبردست عوامی تائید کا ثبوت پیش کیا ہے ۔ در اصل دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت نے جو کام انجام دئے ہیں اور عوام کو جس طرح سے راحت فراہم کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ان کی ایک مثال بنتی جا رہی ہے ۔ دہلی ماڈل حکمرانی کو دوسری ریاستوں میں بتدریج قبول کیا جا رہا ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ عام آدمی پارٹی نے اب اپنے قومی عزائم بھی ظاہر کردئے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وہ دوسری ریاستوں پر بھی توجہ دیتے ہوئے خود کو قومی سطح کی متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرے گی ۔ پارٹی کے یہ عزائم اور منصوبے تو سیاسی ہیںاور یہ ہر جماعت کا حق بھی ہے کہ وہ خود کو مزید آگے بڑھانے کی جدوجہد کرے ۔ تاہم جہاں تک پنجاب میں عوام کی تائید ملنے کا سوال ہے تو ایسے میں پارٹی کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ عام آدمی پارٹی پر ریاست کے عوام نے جس حد تک بھروسہ کیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ دہلی ماڈل سے بھی بہتر حکمرانی کی توقع ریاست کے عوام کر رہے ہیں۔ دہلی ایک چھوٹی ریاست ہے اور وہاں 70 رکنی اسمبلی ہے ۔ اس میں بھی کچھ امور حکومت دہلی کے اختیار میں نہیں ہیں جن میں پولیس اور دوسرے شعبہ جات بھی شامل ہیں۔ پنجاب کی جہاں تک بات ہے تو وہ دہلی سے نسبتا ایک بڑی ریاست ہے اور وہاں کا ایک مخصوص کلچر رہا ہے ۔ اس کلچر سے دوری ریاست کے عوام برداشت نہیں کرسکتے ۔ اسی کلچر میں رہتے ہوئے عوام کی بہتری اور حقیقی معنوں میں ان کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کیلئے بھگونت سنگھ مان کی قیادت میں بننے والی حکومت کو کوشش کرنی ہوگی ۔ اروند کجریوال کی قیادت میں دہلی حکومت نے جو مثال ملک بھر کے عوام کے سامنے پیش کی ہے اس سے پنجاب میں توقعات دوگنی ہوجاتی ہیں۔ ریاست میں عوام کو کئی مسائل درپیش ہیں اور ان کا جائزہ لیتے ہوئے ایک جامع منصوبہ اور حکومت عملی بنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ عوام کی تائید کو برقرار رکھا جاسکے اور ان کی امیدوں کو پورا کیا جاسکے ۔
پنجاب ایک زرعی ریاست ہے اور یہاںکسانوںکی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ کسانوں کو ایک سازگار ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔ کسانوں کو ریاست میں جو مسائل درپیش ہیں ان کی یکسوئی کیلئے جامع پروگرام تیار کرنا ہوگا ۔ محض اعلانات یا پھر عوام کو گمراہ کرنے سے کام چلنے والا نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ ریاست میں ایک اور اہم مسئلہ نشیلی ادویات کے استعمال کا ہے جس سے نوجوانوں کی ایک خاطر خواہ تعداد متاثر ہو رہی ہے ۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں بھی یہ مسئلہ بہت زیادہ توجہ میں رہا تھا ۔ حالانکہ اب گذشتہ پانچ سال قبل جیسی صورتحال نہیں ہے اور اس میںکچھ بہتری آئی ہے لیکن یہ مسئلہ ابھی جڑ سے ختم نہیںہوا ہے ۔ اب بھی کئی نوجوان اس لعنت کا شکار ہیں۔ اس لعنت کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے بھی ایک مبسوط حکمت عملی تیارکرنی ہوگی ۔ مسلسل اس پر توجہ دیتے ہوئے کام کرنا ہوگا ۔ خود نوجوانوں میںشعور بیداری کیلئے مہم چلانے کی ضرورت ہوگی ۔ اس کے بعد ہی مثبت نتائج کی امید کی جاسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ ریاست میں دواخانوں اورا سکولس کا ایک جال بنانا ہوگا جس طرح دہلی میں کیا گیا ہے ۔ یہاں کے صحت اور تعلیم کے انفرا اسٹرکچر پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہوگی ۔ ریسات کی معاشی بدحالی کو بھی دور کرنے کیلئے اقدامات کرنے ہونگے ۔ عوام میںایک طرح کا اعتماد بحال کرتے ہوئے حالات کو بہتر بنانے کی سمت کام کیا جاسکتا ہے جس سے مثبت نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے ۔
عام آدمی پارٹی کے امیدواروں نے انتخابات میں بڑے قائدین کو بھی شکست سے دوچار کردیا ہے ۔ پردیش کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو ‘ چیف منسٹر چرنجیت سنگھ چنی ‘ پرکاش سنگھ بادل ‘ سابق چیف منسٹر کیپٹن امریندر سنگھ اور دوسرے کئی اہم سرکردہ سیاسی قائدین رہے ہیں جنہیںانتخابات میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ یہ قائدین اپنی شکستوں کو قبول کرکے گھر بیٹھنے والے نہیں ہونگے ۔ یہ حکومت کے کام کاج پر مسلسل نظر رکھنے کی کوشش کریں گے تاکہ کہیں کوئی جھول رہ جائے تو اسے عوام کے درمیان پیش کرتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنانے کا موقع پا سکیں۔ اس کے علاوہ یہ حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرنے کی کوششیں بھی کرسکتے ہیں۔ ان حالات کو عام آدمی پارٹی کو پوری سنجیدگی اور فراست کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہوگی تبھی عوام نے جو توقعات اس سے وابستہ کی ہیں ان کو پورا کیا جاسکے گا ۔
فلسطین سے دنیا کی چشم پوشی
آج ساری دنیا میں یوکرین پر روس کے حملے کے چرچے چل رہے ہیں۔ دنیا کا تقریبا ہر ملک اس پر تبصرے کرنے میںمصروف ہے ۔ خاص طور پر مغربی ممالک ‘ امریکہ ‘ برطانیہ اور ان کے یوروپی حواریوں کی جانب سے روس کی کارروائیوں پر مسلسل تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔ جنگ حقیقی معنوں میںکہیں بھی ہو کسی بھی مسئلہ کا حل نہیںہوسکتی اور اس سے سب سے بڑا نقصان انسانوںا ور انسانیت کا ہوتا ہے ۔ دنیا کے کسی بھی خطہ میں ہو جنگ کی مذمت اور مخالفت کی جانی چاہئے ۔ طاقتور کے ظلم کا کوئی جواز نہیںہوسکتا ۔ تاہم اس میںڈوغلے معیارات کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی ۔ آپ کسی ایک قابض فوج کی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوں اور دوسری قابض فوج کی کارروائیوں کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوں تویہ ڈوغلا پن اور دوہرے معیارات ہیں۔ اس کی انصاف پسند دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے ۔ آج ساری دنیا یوکرین سے ہمدردی کرنے میںمصروف ہے لیکن فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحانہ اور وحشیانہ کارروائیوں سے چشم پوشی کی جا رہی ہے جو انتہائی افسوسناک بات ہے ۔ اسرائیلی فوج ویسے بھی اپنی جارحانہ کارروائیوں کیلئے جانی جاتی ہے ۔ اب اس فوج کی جانب سے غرب اردن اور دوسرے شہروں میںفلسطینیوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں ایک بار پھر شروع کردی گئی ہیں۔ فلسطینی عوام کے گھروں میں گھس کر تباہی مچائی جا رہی ہے ۔ نہتے فلسطینیوں کو اذیتیں دی جا رہی ہیں۔ انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے ۔ خواتین اور بچوں کو بھی بخشا نہیں جا رہا ہے اور خود کو مہذب قرار دینے والی دنیا خاموش تماشائی ہے ۔ دنیا کو اپنے دوہرے معیارات ترک کرکے فلسطینی عوام کیلئے بھی آواز اٹھانی چاہئے ۔
