پنجاب میں لا اینڈ آرڈر پر توجہ ضروری

   

Ferty9 Clinic

پنجاب میں عام آدمی پارٹی نے بڑی تبدیلی لانے کے نعرہ کے ساتھ عوامی تائید کے ذریعہ اقتدار حاصل کیا تھا ۔ انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو بھاری اکثریت حاصل ہوئی تھی اور اس نے دوسری تمام بڑی جماعتوں کو کہیں پیچھے چھوڑتے ہوئے ریاست میں حکومت تشکیل دی ۔ ویسے تو عام آدمی پارٹی کی ساری توجہ عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات پر ہوتی ہے اور کرپشن کے خلاف جدوجہد اس پارٹی کا بنیادی نعرہ ہے ۔ دارالحکومت دہلی میں عام آدمی پارٹی دوسری معیاد کیلئے مکمل اکثریت کے ساتھ کام کر رہی ہے اور اسی کی کارکردگی کو بنیاد بنا کر پنجاب میں اقتدار حاصل کیا گیا تھا ۔ تاہم اب جبکہ پنجاب میں پارٹی کو اقتدار حاصل ہوگیا ہے کچھ انتظامی امور پارٹی کیلئے مسائل کا سبب بن رہے ہیں۔ خاص طور پر لا اینڈ آرڈر کا عام آدمی پارٹی اور اس کے قائدین کو کوئی تجربہ نہیں ہے ۔ پنجاب میں پارٹی کے جو ارکان اسمبلی اور وزراء ہیں ان کی اکثریت پہلی مرتبہ ایوان کیلئے منتخب ہوئی ہے اور حکمرانی کا انہیں کوئی تجربہ نہیں ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ لا اینڈ آرڈر پر پارٹی ابھی کوئی گرفت نہیں بناسکی ہے ۔ چیف منسٹر بھگونت مان ایک اچھے لیڈر اور مقرر ہیں لیکن انہیں اپنی انتظامی صلاحیتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہیں انتظامیہ اور خاص طور پر پولیس مشنری پر گرفت بنانے پر توجہ کرنا چاہئے ۔ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے اقتدار سے نہ صرف پنجاب بلکہ دوسری ریاستوںکے عوام کو بھی امیدیں وابستہ ہوئی ہیں۔ ایسے میں اگر دیگر تمام شعبوں پر توجہ کی جاتی ہے اور لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ بہتر نہیں ہوتا ہے تو ساری کارکردگی پر ہی سوال اٹھنے شروع ہوجائیں گے ۔ جس وقت سے پنجاب میں بھگونت مان کی حکومت قائم ہوئی ہے اس وقت سے حالات بہتر نہیں ہوئے ہیں۔ سنگر و کانگریس لیڈر سدھو موسے والا کا دن دہاڑے قتل کردیا گیا ۔ یہ قتل اس لئے بھی تشویش کی بات ہے کیونکہ یہ گینگ وار کا قتل ہے ۔ ایک گینگ کے ارکان نے دوسری گینگ کو نشانہ بنایا ہے ۔ پنجاب میں گینگ وار کا کنٹرول بیرونی ممالک سے کیا جاتا ہے اس لئے اس پہلو پر خاص توجہ دی جانی چاہئے ۔ ایک عادی مجرم لارنس بشنوئی نے موسے والا کو قتل کروانے کا اعتراف کیا ہے ۔
ایک عادی مجرم اور گینگسٹر کے اعتراف سے پتہ چلتا ہے کہ کہ صورتحال کس نہج پر جا رہی ہے ۔ اسی طرح جمعہ کو بھی موگا ضلع میں ایک شخص کو دن دہاڑے سر عام قتل کردیا گیا ۔ چھ افراد نے ایک مزدور کا سڑک پر تعاقب کیا ۔ اسے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا ۔ جب وہ سڑک پر گر کر ڈھیر ہوگیا یہ لوگ یہاں سے فرار ہوگئے ۔ پنجاب جیسی ریاست میں اس طرح کی وارداتوں کو اگر ابتداء ہی میں قابو نہیں کیا گیا تو صورتحال زیادہ سنگین ہوسکتی ہے ۔ پنجاب کے جو حالات ہیں ان کو دیکھتے ہوئے خاص طور پر لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ پنجاب میں پہلے تو منشیات کی لعنت کی وجہ سے بے شمار مسائل پیدا ہوئے تھے ۔ پنجاب کے ہزاروں نوجوانوں کو اس لعنت کا عادی بنادیا گیا تھا ۔ اس کی وجہ سے ریاست کی ترقی متاثر ہوئی ۔ اسی طرح اگر قتل و غارت گری کے بازار کو فوری طور پر قابو نہیں کیا گیا تو اس کا علیحدگی پسند عناصر کی جانب سے بھی استحصال کیا جاسکتا ہے ۔ پولیس مشنری کو فوری حرکت میں لاتے ہوئے ریاست میں سرگرم مجرمین کے خلاف عرصہ حیات تنگ کیا جانا چاہئے ۔ انہیں سخت سزائیں دلاتے ہوئے دوسروں کیلئے عبرت کا سامان کیا جانا چاہئے ۔ مفادات حاصلہ کو صورتحال کے استحصال کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے ۔ ریاست کے عوام کو پرسکون ماحول فراہم کرنے کیلئے حکومت کو سنجیدگی سے حکمت عملی تیار کرتے ہوئے کام کرنا چاہئے ۔ جو تجربہ کی کمی ہے اس کو سنجیدگی سے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے دور کیا جاسکتا ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ بھگونت مان یا ان کی کابینہ میں شامل افراد کی نیتوں پر شبہ نہیں کیا جاسکتا ۔ ان کا اب تک کا ریکارڈ دیانتدارانہ رہا ہے اور عام آدمی پارٹی سماج سے برائیوں کا خاتمہ کرنے کا عہد رکھتی ہے ۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ خود اروند کجریوال کو ابھی تک بھی لا اینڈ آرڈر کے مسئلہ سے نمٹنے کا تجربہ نہیں ہے کیونکہ دہلی میں پولیس ان کے کنٹرول میں نہیں ہے ۔ پنجاب چونکہ مکمل ریاست ہے اس لئے پولیس مشنری بھی ریاستی حکومت کے تحت ہے ۔ ایسے میں بھگونت مان کو زیادہ سنجیدگی سے اس مسئلہ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ محض کرپشن کے خاتمہ کا نعرہ دیتے ہوئے حکومت کی امیج بنانے کی کوشش کامیاب نہیںہوسکتی ۔ سماجی برائیوں میں قتل و خون سب سے سنگین لعنت ہے اور اس سے نمٹنے میں کسی طرح کی تن آسانی کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہئے ۔ سنجیدگی سے اقدامات کرتے ہوئے حالات کو ابھی قابو کیا جانا چاہئے ۔
یوکرین جنگ کے 100 دن
یوکرین پر روس کے حملے کے 100 دن پورے ہوچکے ہیںتاہم جنگ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ روس کی جانب سے فوجی کارروائیوں میں تیزی پیدا کردی گئی ہے اور کئی شہروں پر قبضہ کرلینے کا دعوی بھی کیا جا رہا ہے ۔ یوکرین کی جانب سے صرف اپنے دفاع کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم اس میں بھی پوری طرح سے کامیابی نہیں مل پا رہی ہے ۔ جہاں تک عالمی برادری یا پھر اقوام متحدہ کا سوال ہے تو ایسا لگتا ہے کہ ان کا وجود صرف روس کے خلاف تحدیدات عائد کرنے تک محدود رہ گیا ہے ۔ مغربی ممالک خاص طور پر روس پر تحدیدات عائد کرنے کے اپنے ایجنڈہ کی تکمیل کر رہے ہیں اور اس کیلئے یوکرین جنگ کا بہانہ ان کیلئے معاون ثابت ہو رہا ہے ۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ کو ختم کرنے اور دونوں ملکوں کو بات چیت کی میز پر لانے کی کوشش اب تک سنجیدگی سے نہیں کی گئی ہے ۔ مزید تباہی روکنے کیلئے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ خاص طور پر حرکت میں آئے اور جنگ روکنے دونوں ملکوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے بصورت دیگر اس ادارہ کا وجود بے معنی ہو کر رہ جائیگا ۔