پنجاب میں کانگریس اور سدھو

   

ہوئے تم دوست جس کے
دُشمن اُسکا آسماں کیوں ہو
ملک کی سب سے قدیم جماعت کانگریس کیلئے داخلی اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پارٹی کو اکثر و بیشتر ملک کی کسی نہ کسی ریاست میں داخلی اختلافات کا سامنا رہتا ہی ہے۔ قومی سطح پر بھی پارٹی میں اختلافات دکھائی دیتے ہیں۔ خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں پارٹی کو اقتدار حاصل رہتا ہے۔ پارٹی میں اختلافات عام بات ہوتے ہیں۔ پارٹی کبھی کسی انداز سے تو کبھی کسی انداز سے صورتحال پر قابو پاتی رہتی ہے۔ کچھ صورتوں میں چیف منسٹر کی تبدیلی بھی عمل میں لائی جاتی ہے تو کبھی ناراض قائدین کو کوئی عہدہ دیا جاتا ہے۔ کبھی کسی کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کی جاتی ہے تاہم پنجاب کا جہاں تک سوال ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ پارٹی کیلئے مستقل دردِ سر بن گیا ہے۔ پارٹی کی مرکزی قیادت کبھی کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کرتی ہے تو دوسری طرف سے پھر نئے مسائل سامنے آجاتے ہیں۔ پنجاب میں بھی کانگریس کیلئے یہی صورتحال ہے۔ صدر پردیش کانگریس نوجوت سنگھ سدھو پارٹی کیلئے ہی مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ سدھو کی بے چین طبیعت انہیں مطمئن ہونے نہیں دے رہی ہے۔ وہ ہر بار نئے انداز سے تبصرے کرتے ہوئے مسائل پیدا کررہے ہیں۔ کبھی موجودہ چیف منسٹر کے خلاف ریمارکس کرتے ہیں تو کبھی کسی عہدہ پر تقرر کی مخالفت کی جاتی ہے۔ کبھی پارٹی کی مرکزی قیادت پر اٹوٹ بھروسہ کا اظہار کرتے ہیں تو کبھی قیادت پر ہی طنز کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ کبھی اپنے لئے کسی بھی عہدہ کی پرواہ نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو کبھی وزارت اعلیٰ کی دعویداری پیش کرتے ہں۔ اب بھی سدھو بالواسطہ طور پر لیکن واضح انداز میں وزارت اعلیٰ کی دعویداری پیش کررہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پارٹی کی مرکزی قیادت موجودہ چیف منسٹر چرن جیت سنگھ چنی کو چھوڑ کر انہیں وزارت اعلیٰ امیدوار کے طور پر پیش کردے۔ اعلیٰ قیادت اس مسئلہ پر لیت و لعل کا شکار ہے۔ پارٹی کے سامنے جوں کی توں صورتحال کو برقرار رکھنا بھی ایک مسئلہ ہے۔ ایسے میں سابق صدر راہول گاندھی اتوار کو چیف منسٹر کے امیدوار کا اعلان کرنے والے ہیں اور جو اشارے ہیں ان کے مطابق چرن جیت سنگھ چنی کی برقراری کا ہی امکان ہے۔ ایسے میں نوجوت سنگھ سدھو کی ناراضگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
نوجوت سنگھ سدھو نے پنجاب میں کانگریس کی مشکلات کا آغاز کیا تھا۔ کیپٹن امریندر سنگھ کی کانگریس سے دوری کی وجہ بھی سدھو بنے اور اب بھی وہی مسائل پیداکررہے ہیں۔ وہ پارٹی کے مفادات کی پرواہ کئے بغیر بیان بازی میں مصروف ہیں ۔ انہیں یہ بھی احساس نہیں ہے کہ ان کے تبصروں سے پارٹی کے انتخابی امکانات متاثر ہوسکتے ہیں۔ چیف منسٹر کا عہدہ حاصل کرنے کی خواہش میں پارٹی کے ہی چیف منسٹر کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کررہے ہیں۔ ان کے بیانات، تبصروں اور ریمارکس سے عام آدمی پارٹی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے اور عوام میں بڑھا چڑھا کر ان بیانات کو پیش کیا جارہا ہے۔ میڈیا اور سوشیل میڈیا میں ان ریمارکس کو پیش کرتے ہوئے کانگریس کے انتخابی امکانات کو متاثر کیا جارہا ہے لیکن نوجوت سدھو اس کو خاطر میں لانے تیار نہیں ہیں۔ ایک ایسے وقت جبکہ ملک کے سیاسی حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ بی جے پی سے مقابلہ کیلئے کانگریس کی صفوں میں اتحاد کو فروغ دیا جائے اور پارٹی کو مستحکم کیا جائے۔ داخلی اختلافات اور رسہ کشی کو ہوا دینا پارٹی کے مفادات کے حق میں نہیں ہوگا۔ پنجاب میں بی جے پی انتہائی کمزور موقف میں ہے ورنہ کانگریس کے اس داخلی خلفشار کا استحصال اور زیادہ ہوتا اور کئی قائدین کو اعتراف کیلئے بھی تیار کرلیا جاتا۔ عام آدمی پارٹی سیاسی فائدہ اُٹھانے کی اپنے طور پر پوری کوشش ضرور کررہی ہے لیکن کس حد تک کامیاب ہوتی ہے یہ ابھی کہا نہیں جاسکتا۔
پارٹی کی مرکزی قیادت کو اس صورتحال کا مستقل حل دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ داخلی اختلافات اور خلفشار کو طوالت دینا پارٹی کے مفاد میں ہرگز نہیں ہوسکتا۔ انتخابی امکانات کو متاثر ہونے کا موقع دیئے بغیر پارٹی کے سبھی قائدین کیلئے قابل قبول راستہ دریافت کرنا چاہیئے۔ عوام میں کسی طرح کی اُلجھن کو عام ہونے کا موقع دیئے بغیر سبھی قائدین کو اعتماد میں لینا چاہیئے۔ عوام کے احساسات کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئے وزارت اعلیٰ امیدوار کا اعلان کرنا چاہیئے اور اس فیصلہ پر ڈٹ کر سبھی گوشوں کو متفق کرنا چاہیئے۔ کوئی بھی فیصلہ جلد کرنا چاہیئے تاکہ زیادہ تاخیر نہ ہوجائے۔
ٹاملناڈو اور نیٹ کا مسئلہ
جنوبی ہند کی ریاست ٹاملناڈو میں مرکزی امتحان نیٹ کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ ریاستی حکومت چاہتی ہے کہ انڈر گریجویٹ کورسیس اور ان سے متعلق عہدوں پر تقررات میں بارہویں جماعت کے امتحانات کے نمبرات کو بنیاد بنایا جائے۔ مرکزی حکومت اس کی اجازت دینے تیار نہیں ہے۔ ریاستی اسمبلی میں اس کے لئے ایک بل بھی پیش کیا گیا تھا لیکن گورنر نے اس بل کو واپس کردیا ہے۔ حکومت ٹاملناڈو نے اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرکے ایک اور بل منظور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتوں کے ٹکراؤ نے طلباء اور نوجوانوں کیلئے مسائل پیدا کردیئے ہیں۔ بعض کورسیس میں داخلے متاثر ہورہے ہیں تو بعض تقررات بھی رُک گئے ہیں۔ یہی صورتحال ایسی ہے جس کا فوری حل دریافت کیا جانا چاہیئے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ایک دوسرے سے مشاورت اور اشتراک کے ذریعہ کوئی قابلِ قبول حل دریافت کرنا ہوگا۔ زیادہ عرصہ تک اختلافات کو برقرار رکھتے ہوئے طلباء اور نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ نہیں کیا جانا چاہیئے۔ جتنا ممکن ہوسکے جلد اس مسئلہ میں پیش رفت کرنا ہوگا اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب حوکمتیں سخت گیر موقف برقرار رکھنے کی بجائے لچکدار موقف اختیار کریں۔