دعا کو ہاتھ جب میں نے اٹھایا
کسی نے دور سے مجھ کو بلایا
پنجاب میں کانگریس کا بحران ایسا لگتا ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ ریاست میں کانگریس کیلئے نوجوت سنگھ سدھو ایک مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ وہ پردیش کانگریس کے صدر رہتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے اختیارات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جو امور پارٹی حدود سے باہر ہیں اور جن میں پارٹی کا کوئی رول نہیں ہونا چاہئے ان پر بھی سدھو کامل اختیار چاہتے ہیں جو حکمرانی کے عمل میں مداخلت کے مترادف ہے ۔ جس وقت سے پنجاب میں کانگریس کی حکومت قائم ہوئی ہے اور نوجوت سنگھ سدھو کو ریاستی کابینہ میں شامل کیا گیا تھا اس وقت سے ہی وہ بے چینی کی کیفیت کا شکار ہیں اور وہ کسی بھی چیز سے مطمئن نظر نہیں آ رہے ہیں۔ انہوں نے کچھ وقت تک تو حکومت میں کام کیا لیکن جب حکومت میں انہیں ایک اہم ذمہ داری سے محروم کیا گیا تو انہوں نے وزارت سے علیحدگی اختیار کرلی اور چیف منسٹر کیپٹن امریندر سنگھ کے خلاف سرگرمیوں کا آغاز بھی کردیا ۔ پنجاب میں کانگریس ایک اچھی اور مستحکم حالت میں ہے ۔ اگر ریاست میں ناراض اور باغیانہ سرگرمیوں کو جلد ہی قابو میں نہیں کیا گیا تو پھر ریاست میں پارٹی کیلئے اپنے اقتدار کو بچانا مشکل ہوسکتا ہے ۔ نوجوت سنگھ سدھو نے پارٹی ہائی کمان سے اپنے اچھے روابط کا فائدہ اٹھایا ہے ۔ انہوں نے اکثر و بیشتر چیف منسٹر کو نشانہ بنایا ہے اور ساتھ ہی ریاست میں حکمرانی پر سوال اٹھایا ہے ۔ اس طرح انہوں نے ایک اپوزیشن لیڈر کا رول زیادہ نبھایا ہے ۔ انہوں نے اس بات کو محسوس نہیں کیا کہ حکمرانی میں نقائص اگر ہیں تو اسے پارٹی کے داخلی فورمس میں پیش کرتے ہوئے ان کی یکسوئی کیلئے کام کیا جاسکتا ہے لیکن سدھو کسی بھی طرح چیف منسٹر کیپٹن امریندر سنگھ کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں ۔ انہیں ابھی بھی وزارت میں اہم عہدے سے محرومی کی چبھن شائد محسوس ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ریاست میں پارٹی اور حکومت کے امکانات کو متاثر کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں اور مسلسل چیف منسٹر کے خلاف سرگرمیوں میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ ایک طرح سے ضد اور ہٹ دھرمی کا شکار ہوگئے ہیں اور اس کو ترک کرنے تیار نہیں ہیں۔
کانگریس قیادت کو اس طرح کی سرگرمیوں سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ بھی تاخیر سے ہوا ہے ۔ پارٹی نے جیسے تیسے کرتے ہوئے سدھو کو پردیش کانگریس کی صدارت کی راہ ہموار کی ۔ انہیں یہ ذمہ داری سونپ دی گئی ۔ جب انہوں نے یہ ذمہ داری سنبھال لی تو یہ قیاس کیا جانے لگا کہ ریاست میں کانگریس کیلئے داخلی مسائل کم ہوجائیں گے ۔ تاہم ریاست میں جس طرح کے حالات پیدا ہوگئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ سدھو پردیش کانگریس کی صدارت سنبھالنے کے بعد نئے جذبہ سے حکومت اور چیف منسٹر کے خلاف سرگرم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ریاست میں حکمرانی پر سوال اٹھائے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں سرکاری کام کاج میں بھی مداخلت کی اجازت دی جائے جبکہ یہ خالصتا چیف منسٹرکی ذمہ داری ہے ۔ دستور اور قانون کی رو سے بھی پارٹی کے صدر کو حکمرانی میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہوتا اور صرف چیف منسٹر حکومت کے تعلق سے فیصلے کرسکتے ہیں۔ تاہم نوجوت سدھو اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ انہیں مخصوص انداز میں فیصلے کرنے کا اختیار دیا جائے ۔ وہ ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو پارٹی امور سے کم اور حکمرانی سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔ ایسا اختیار کسی بھی پارٹی صدر کو نہیں دیا جاسکتا اور یہ بات سدھو کو سمجھنی چاہئے تھی لیکن وہ اسے سمجھنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وہ ہر ممکنہ طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے چیف منسٹر کیپٹن امریندر سنگھ کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں نیچا دکھانے کی ضد پر اڑے ہوئے ہیں ۔
ابھی جبکہ پنجاب میں انتخابات کیلئے چند ماہ کا وقت باقی ہے کانگریس کیلئے حالات ٹھیک دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی ان حالات پر زیادہ ٹال مٹول کی پالیسی بھی اختیار نہیں کرسکتی ۔ اس مسئلہ پر اسے دو ٹوک فیصلہ کرنے اور حالات کو سدھارنے کی ضرورت ہے ۔ پارٹی کی مرکزی قیادت کو چاہئے کہ وہ مختلف امور کو نظر میں رکھتے ہوئے دونوں فریقین کے مابین ایسی صلح صفائی کروائے جس کے بعد کسی طرح کے سیاسی اختلافات نہ رہ جائیں۔ اگر کانگریس اب بھی اس مسئلہ میں ٹال مٹول کی پالیسی اختیارکریگی اور کوئی واضح اور دو ٹوک فیصلہ کرنے سے گریز کریگی تو اس کا خمیازہ انتخابات میں بھگتنا پڑسکتا ہے ۔
