پنجاب کے خلاف کامیابی سے گجرات سرفہرست بننے کا خواہاں

   

موہالی ۔ دفاعی چمپئن گجرات ٹائٹنز رنکو سنگھ کے آخری اوورکے طوفان سے باہرآتے ہوئے، اس ڈراؤنے خواب کی رات کو بھولنا چاہیں گے اور جمعرات کو یہاں انڈین پریمیئر لیگ کے ایک میچ میں پنجاب کنگز کا مقابلہ کریں گے۔ گزشتہ مقابلے کی رات میں گجرات کے پاس کئی ہیروز تھے، جن میں نوجوان سائی سدرشن، وجے شنکر اور افغانستان کے ہیٹ ٹرک مین راشد خان شامل تھے، جنہوں نے بیمار ہاردک پانڈیا کی جگہ ٹیم کی قیادت کی لیکن رنکو کے ارادے کچھ اور تھے۔ جب میچ جتنا اچھا لگ رہا تھا اور گجرات کامیابی کی دہلیز پر تھا تو اتر پردیش کے بیٹر رنکو نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے وہ کارنامہ کردیا جس کی کے گمان میں بھی نہیں تھا ۔ انہوں نے آخری اوور میں پانچ متواتر چھکے مار کر میزبان ٹیم کو دنگ کر دیا۔ آخری گیند پر ہونے والی اس شکست سے آنے والے مقابلوں تک جی ٹی کو نقصان پہنچے گا لیکن، فوری طور پر وہ اسے بھول کر اگلے گیم کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیں گے۔گجرات جو اس وقت تین مقابلوں میں چار پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل پر چوتھے نمبر پر ہے، اس کے پاس اب بھی جدول میں سرفہرست رہنے کا بہترین موقع ہے، لیکن اس کے لیے انہیں پنجاب کنگز الیون کے خلاف اجتماعی طور پر اکٹھا ہونا پڑے گا، جو تیزی سے آگے بڑھنے کے لیے ایک مشکل ترین فریق بن کر ابھر رہے ہیں۔ ان کی موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے پنجاب کی سن رائزرس حیدرآباد سے آٹھ وکٹوں کی شکست محض ایک اتفاق ہو سکتا ہے، ان کے کپتان شکھر دھون اور نوجوان بائیں ہاتھ کے بولر ارشدیپ سنگھ کی فارم کو دیکھتے ہوئے ان کی کامیابی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ 9 اپریل کو حیدر آباد میں دھون کی اننگز مضبوط کھلاڑیوں کی لچک کا ثبوت تھی اور وکٹیں دوسرے سرے پر تاش کے پتوںکی طرح گرنے کے باوجود ان کی اسکور کو تشکیل دینے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے ۔حیدرآباد کے خلاف ان کا 99 رنز ،راجستھان رائلز کے خلاف ناقابل شکست 86، یا کے کے آر کے خلاف اسٹروک سے بھرپور40 کے ساتھ میچ میں جیت کا کردار دھون کو ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر ابھاررہا ہے۔ جی ٹی دھون کی فارم سے ہوشیار رہے گا اور ہاردک کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ دہلی کے تجربہ کارکرکٹر کو ایک بار پھر خود کو ثابت کرنے کے لیے کس طرح بے تابیہوگی۔ یہ دھون اور شبمن گل کے درمیان ون اپ مین شپ کا مقابلہ ہوسکتا ہے، سابق کھلاڑی اب بھی اپنے آپ کو ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اس سال کے آخر میںگھر پر ہونے والے ونڈے ورلڈ کپ کے لیے ہندوستانی اسکواڈ میں جگہ کے لیے دوڑ میں ہیں۔ دھون اور نوجوان اوپننگ پارٹنر پربھسمرن سنگھ نے جس طرح پاور پلے میں دھوم مچا دی ہے اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ گجرات کے خلاف اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرنے کا امکان نہیں رکھتے ہیں، جن کے پاس محمد سمیع ، ہاردک اور راشد جیسے بولرس ہیں۔ لوئر آرڈر میں پنجاب کے پاس آئی پی ایل کی تاریخ میں سب سے مہنگی خریداری ہے، لیام لیونگسٹون اور جیتیش شرما کے علاوہ آل راؤنڈر سیم کرن، جبکہ بولنگ کے شعبے میں ارشدیپ اور ناتھن ایلس نے حریفوں کے لیے کافی مشکلات پیدا کی ہیں۔ اگرچہ جی ٹی کے پاس اپنی طاقت ہے، جس میں گل، ٹاپ آرڈر بیٹر سدرشن اور شنکرکی موجودگی اہم ہے جنہوں نے 24 گیندوں پر ناقابل شکست 63 رنز بنائے اور ٹیم کو 200 سے زائد کے مجموعی اسکور تک پہنچایا۔ کے کے آر اگر آخری اوور میں رنکوکی دم توڑ دینے والی تباہی نہ ہوتی تو وجے اس شاندارکوشش کے لیے اس کی پیٹھ تھپتھپا سکتا تھا۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا تھا اور یش دیال کے آخری اوور میں چیزیں الٹ پلٹ ہوگئیں۔ گجرات شاید بولنگ شعبہ پر ایک بار پھر نظر ڈالے گا اور دیکھے گا کہ وہ اپنے بولروں کو زیادہ مؤثر طریقے سے کیسے استعمال کرسکتے ہیں۔