پنٹگان 30 بلین ڈالر کا گولہ بارود خریدنے کا خواہاں

   

واشنگٹن : امریکہ کی پہلی نائب وزیر دفاع کیتھلین ہکس نے اعلان کردیا ہے کہ واشنگٹن اگلے مالی سال میں گولہ بارود کی خریداری پر 30.6 بلین ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو رواں سال کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ رقم ہے۔ہکس نے پیر کو پنٹگان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم مالی سال 2024 میں صرف 30.6 بلین ڈالر کا گولہ بارود خریدیں گے۔ جو 2023 کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد زیادہ ہے۔اس کے علاوہ ذمہ دار ذرائع نے اطلاع دی ہیکہ امریکی محکمہ دفاع اگلے سال کے بجٹ سے 100 بلین ڈالر مختص کرے گا تاکہ اس چیز کا مقابلہ کیا جا سکے جسے امریکہ چینی خطرے اور ہنگامی غیر ملکی کارروائیوں کے طور پر بیان کرتا ہے۔ یہ پیشرفت پنٹگان کے رجحانات کی عکاسی بھی کر رہی ہے۔ خاص طور پر وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا موقف درست سمت میں نہیں ہے۔مارچ کے اوائل میں آسٹن نے امریکی مسلح افواج کو ایک پیغام بھیجا جس میں 3 ترجیحات کو اجاگر کیا گیا تھا۔ سب سے اہم چین کا مقابلہ کرنا تھا جسے انہوں نے ’’تیز رفتار چیلنج‘‘ کے طور پر بیان کیا۔ وائٹ ہاؤس نے سال 2024 کیلئے 886 بلین ڈالر سے زائد کے دفاعی بجٹ کی درخواست کی تھی جو رواں سال 2023 کے بجٹ کے مقابلے میں 3.2 فیصد زیادہ ہے۔