پولنگ اسٹیشن میں درج ووٹوں سے کہیں زیادہ رائے دہی

   

Ferty9 Clinic

اُجین کے پولنگ اسٹیشن میں 481 رائے دہندے لیکن ووٹنگ مشین میں 841 ووٹ درج
ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار کی الیکشن کمیشن سے شکایت
حیدرآباد۔/21 جون، ( سیاست نیوز) لوک سبھا انتخابات میں ای وی ایم مشینوں کی کارکردگی پر شبہات میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ای وی ایم مشینوں کو درست ثابت کرنے کیلئے مشینوں کے ساتھ وی وی پیاٹ منسلک کئے تاکہ دونوں کی گنتی کرتے ہوئے ای وی ایم مشینوں کی سچائی ثابت کی جاسکے۔ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں کئی ایک مقامات پر ای وی ایم مشینوں اور وی وی پیاٹ کے ووٹوں میں کافی فرق پایا گیا جس سے مشینوں کی کارکردگی پھر ایک بار شک کے دائرہ میں آچکی ہے۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار اور حکومت ہند کے سابق سکریٹری سریندر ناتھ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو مدھیہ پردیش کے اُجین لوک سبھا حلقہ کے پولنگ اسٹیشن نمبر 136 میں ووٹوں کی تعداد میں فرق کو ثبوت کے ساتھ پیش کرتے ہوئے کارروائی کی اپیل کی ہے۔ سابق بیوروکریٹ نے اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر کی کاؤنٹنگ شیٹ کے علاوہ وی وی پیاٹ اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ووٹوں کی گنتی کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولنگ اسٹیشن نمبر 136 کے ای وی ایم مشین میں 841 ووٹوں کی گنتی کی گئی جن میں بی جے پی کو 630 ، کانگریس 186 اور دوسروں کو 25 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ پریسائیڈنگ آفیسر کے بیالٹ اکاؤنٹ کے مطابق اس پولنگ اسٹیشن میں رائے دہندوں کی تعداد 481 ہے جن میں 477 فہرست رائے دہندگان میں رجسٹرڈ ہیں اور 4 الیکشن ڈیوٹی سرٹیفکیٹ ووٹرس ہیں۔ انٹرنیٹ پر موجود مذکورہ پولنگ اسٹیشن کے رائے دہندوں کی تعداد 477 دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ جب پولنگ اسٹیشن میں رائے دہندوں کی تعداد 481 ہے تو پھر ای وی ایم مشین نے کس طرح 841 ووٹس ریکارڈ کئے جس سے الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا پتہ چلتا ہے۔ اس بھیانک غلطی اور ووٹوں میں فرق کے باوجود الیکشن کمیشن نے کسی وضاحت کے بغیر نتیجہ کا اعلان کردیا۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار نے الیکشن کمیشن سے اس سلسلہ میں وضاحت کی اپیل کی ہے۔