منگلورو ، 25 دسمبر ( سیاست ڈاٹ کام) کرناٹک کے منگلورو میں 19 دسمبر کو شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) کی مخالفت میں ہوئے مظاہروں پر قابو پانے کے لئے تعینات کئی پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر بیرون ملک اور ملک کے مختلف علاقوں کے فون پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔ ایک سینئر پولیس افسر نے چہارشنبہ کے روز بتایا کہ بیرون ملک سے انٹرنیٹ کے ذریعے پولیس اہلکاروں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کارروائی کی توجہ کا مرکز رہے ایک پولیس اہلکار کو اب تک کئی مرتبہ فون پر جان سے مارنے کی دھمکی دی جا چکی ہے جبکہ ایک پولیس اہلکار کو بیرون ملک سے کئی دھمکی بھرے فون آ چکے ہیں ۔ ان میں سے کئی کال مختلف تھانوں کے لینڈ لائن فون پر آ چکی ہیں اور حتی ٰ کہ پولیس کمشنر کے دفتر کے فون پر بھی اس طرح کی کالز آ چکی ہیں ۔ پولیس کمشنر پی ایس ہرش نے کہا کہ پولیس نے 19 دسمبر کو احتجاج کے دوران بھڑکے تشدد کے سلسلے میں اب تک کل 24 معاملے درج کئے ہیں ۔ ان میں تشدد سے شدید متاثرہ شمالی تھانہ علاقے میں درج 10 معاملے اور جنوبی تھانہ میں 13 معاملے درج کئے گئے ہیں جبکہ ایک معاملہ دیہی علاقے کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کچھ مزید معاملے بھی درج ہوں گے ۔سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے جنرل سیکریٹری ریاض کے خلاف غداری کا معاملہ درج کرنے کے بارے میں ڈاکٹر ھرشا نے کہا کہ پولیس کے پاس تشدد کے لئے اکسانے کے ٹھوس ثبوت ہیں ۔ پولیس نے لوگوں سے ای میل اور وھاٹس پپ کے ذریعے ویڈیو اور تصویر بھیجنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بھیجنے والوں کے نام خفیہ رکھے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی اپیل کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اپنے ویڈیوز پولیس کے ساتھ ساتھ تمام میڈیا کو بھی بھیجنا چاہئے تاکہ سچائی سامنے آ سکے ۔