سانحہ سقوط حیدرآباد کی تاریخ سے نئی نسل کو واقف کروانا ضروری، گلبرگہ میں جلسہ، مولانا محمد نوح و دیگر کا خطاب
گلبرگہ، 17 ستمبر۔ انڈین یونین مسلم لیگ ضلع گلبرگہ کے زیرِ اہتمام سانحہء حیدرآباد و پولیس ایکشن کے عنوان سے ایک اہم جلسہ قایدِ ملت ہال، نزد حج کمیٹی، گلبرگہ میں منعقد ہوا۔ جلسہکی صدارت مولانا محمد نوح صدر انڈین یونین مسلم لیگ ضلع گلبرگہ نے کی۔اپنے صدارتی خطاب میں مولانا محمد نوح نے کہاکہ اس پروگرام کے انعقاد کا بنیادی مقصد نئی نسل کو تاریخِ حیدرآباد کے ان واقعات سے آگاہ کرنا ہے جنہیں وقت کے ساتھ فراموش کیا جا رہا ہے۔ نیز ان ہزاروں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے جنہوں نے اس المناک دور میں اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے کہا کہ آج جس واقعہ کو بعض حلقوں کی جانب سے ’’یومِ فتح‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے، وہ متاثرین اور شہداء کے خاندانوں کے لیے ایک نہایت دردناک تاریخی باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ جلسہ کا آغاز محی الدین طالب علم مدرسہ رحمانیہ لائف انسٹیٹیوٹ حج کمیٹی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ مولوی محمد مظہر احمد گرمٹکلی نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔جناب بشیر عالم سکریٹری شعبہ نشر و اشاعت انڈین یونین مسلم لیگ نے استقبالیہ کلمات ادا فرمائے، نظامت کے فرائض جناب سجاد احمد نے بحسن و خوبی انجام دیئے۔ معروف ادیب و افسانہ نگار علیم احمد نے سانحہء سقوطِ حیدرآباد کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے رضاکاروں کے کردار اور نظامِ حیدرآباد کے ساتھ ان کے تعلقات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پولیس ایکشن کے بعد پیش آنے والے خونریز واقعات اور انسانی المیوں کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ کے ان ابواب کا غیر جانب دارانہ مطالعہ نئی نسل کے لئے بے حد ضروری ہے۔مجیب علی خان نے اپنے خطاب میں نوجوان نسل کو ایسے تاریخی وشعوری پروگراموں سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ قوموں کے لئے اپنی تاریخ سے واقفیت اپنی شناخت اور مستقبل کی تعمیر کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔علاء الدین محمد اکبر، معتمدِ عمومی تعمیرِ ملت ضلع گلبرگہ نے اپنے خطاب میں سقوطِ حیدرآباد کے تاریخی پس منظر پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے مملکتِ آصفیہ کے کردار، اس دور کے سیاسی حالات اور حکومتِ ہند کے ساتھ ہونے والے معاہدات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سانحہء حیدرآباد کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ تاریخی شواہدکی روشنی میں کیا جانا چاہیے، تاکہ آنیوالی نسلیں ماضی کے واقعات کو صحیح تناظر میں سمجھ سکیں۔ڈاکٹر اصغر چلبل،چیئرمین سیرتِ النبی اسٹڈی اینڈ ریسرچ سینٹر کرناٹک نے اپنے خطاب میں کہا کہ مختلف حکومتوں کی جانب سے اس دن کو خصوصی طور پر منانے کی روایت رہی ہے، جس کے نتیجہ میں نئی نسل تک ایک مخصوص تاریخی بیانیہ زیادہ نمایاں انداز میں پہنچا ہے۔ انہوں نے اس کے مقابلہمیں تاریخی واقعات کے دیگر پہلوؤں کو بھی اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر اصغر چلبل نے پولیس ایکشن کے دوران پیش آنے والے متعدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے متاثرین اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور سانحہئحیدرآباد کے تاریخی حقائق کو محفوظ رکھنے کے لیے اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد پر مولانا محمد نوح کو مبارکباد پیش کی۔جلسہ میں انجنیئر اکرم نقاش صدر انجمن ترقی اردو ہند گلبرگہ،جواد میر، مدیرِ روزنامہ کے بی این ٹائیمس، ظہیر اقبال تماپوری، عبدالسلام رنگریز، ممتاز شاعر صادق کرمانی، خواجہ معین الدین،خلیل پٹیل، محمد عثمان نواڑے، محمد عبدالصمد قریشی، محمد علی گھی والے سمیت متعدد اہلِ علم، ادبا، شعراء اور علم دوست شخصیات نے شرکت کی۔آخر میں مولانا شہاب الدین نظامی صاحب، پرنسپل رحمانیہ لائف انسٹیٹیوٹ حج کمیٹی نے دعا فرمائی،جبکہ خواجہ صدرالدین پٹیل سکریٹری انڈین یونین مسلم لیگ ضلع گلبرگہ نے تمام شرکاء اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔