فوج میں شمولیت کیلئے کئی برسوں سے تیاریاں، والدین غم سے نڈھال
حیدرآباد۔17۔ جون (سیاست نیوز) آرمی رکروٹمنٹ سے متعلق مرکز کی اگنی پتھ اسکیم کے خلاف احتجاج کے دوران سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر فائرنگ میں ہلاک نوجوان ڈی راکیش کو فوجی جوان کی حیثیت سے ملک کی خدمت کرنے کا غیر معمولی جذبہ تھا۔ ورنگل ضلع کے خانہ پور منڈل کے دبیر پیٹ گاؤں سے تعلق رکھنے والے ڈی راکیش کی موت کی اطلاع نے سارے گاؤں میں غم کا ماحول پیدا کردیا۔ راکیش ہنمکنڈہ کے ایک خانگی ڈگری کالج میں فائنل ایئر کا طالب علم تھا۔ راکیش کی ماں نے کہا کہ ان کا بیٹا مسلح افواج میں خدمات انجام دینے کا جذبہ رکھتا تھا۔ ان کی بیٹی سنگیتا مغربی بنگال میں بی ایس ایف میں برسر خدمت ہے۔ بی ایس ایف میں بہن کی خدمات سے حوصلہ پاکر راکیش نے فوج میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا ۔ 21 سالہ راکیش کے والد ڈی کمار سوامی نے کہا کہ ان کے بیٹے نے دو مرتبہ آرمی رکروٹمنٹ ریالی میں حصہ لیا اور دو مرتبہ بھی مایوسی ہوئی ۔ وہ انڈین ایرفورس میں شمولیت کا خواہاں تھا۔ حال ہی میں اس نے فزیکل ٹسٹ پاس کیا تھا ۔ اسے جب یہ پتہ چلا کہ اگنی پتھ اسکیم کے تحت تقررات کئے جائیں گے تو وہ مایوس ہوگیا اور احتجاج میں حصہ لینے کیلئے اپنے 14 ساتھیوں کے ساتھ ہنمکنڈہ سے حیدرآباد روانہ ہوا تھا۔ راکیش کا تعلق بی سی طبقہ سے ہے اور اس نے ہنمکنڈہ میں گزشتہ چند برسوں سے ٹریننگ حاصل کی۔ راکیش کے والدین کسان ہیں اور بڑے بھائی جسمانی طور پر معذور ہیں۔ گاؤں والوں نے مرکزی حکومت کو راکیش کی موت کیلئے ذمہ دار قرار دیا اور پسماندگان کو معاوضہ کی مانگ کی۔ بتایا جاتا ہے کہ فائرنگ میں محبوب آباد ضلع سے تعلق رکھنے والے ونئے نامی نوجوان زخمی ہوا۔ ر