سابق وزیر خزانہ کو ہم نے سلاخوں کے پیچھے بند کردیا، کیڑے مکوڑوں کی کیا حیثیت ہے، بی جے پی قائد دلیپ گھوش کا بیان
کولکتہ۔28 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مغربی بنگال کے بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش نے اپنے ورکروں کو ترنمول کانگریس کے جہدکاروں اور پولیس کے ساتھ مارپیٹ کرنے کا مشورہ دے کر ایک تنازعہ کھڑا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور ترنمول کانگریس کارندے ان پر حملہ کریں تو وہ بھی انہیں پیٹ ڈالیں اور اس کا جو بھی نتیجہ ہوگا اسے دیکھ لیا جائے گا۔ پولیس نے بی جے پی کے اس رکن پارلیمان کے خلاف سہ شنبہ کے دن لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں ایک کیس درج کرلیا۔ دلیپ گھوش دو شنبہ کو مشرقی مرناچور ضلع کے مچیڈا مقام پر بی جے پی کے ایک پروگرام میں حصہ لے رہے تھے۔ انہوں نے اس پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے بیان کیا کہ ترنمول کانگریس کے غنڈوں سے اور پولیس والوں سے ڈرنا مت، مغربی بنگال کے مختلف علاقوں میں بی جے پی کے ورکروں پر حملے معمول کی بات بن چکے ہیں۔ مجرمین کو گرفتار کرنے کے بجائے پولیس ہمارے ہی کارکنوں کو غلط کیسوں میں پھانس رہی ہے۔‘’ انہوں نے کہا کہ پولیس اور ترنمول کانگریس کے کارکن تم پر حملہ کریں تو تم انہیں مارو اگر کوئی مسئلہ پیدا ہوجائے گا تو اس کا بھی انتظام کیا جائے گا۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے مقابلے میں ٹی ایم سی کے کارکن اور پولیس والوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید بیان کیا کہ اگر سابق وزیر مالیات پی چدمبرم کو سلاخوں کے پیچھے بند کیا جاسکتا ہے تو ٹی ایم سی کے یہ لیڈر ہمارے آگے کیڑے مکوڑے ہیں۔ ٹی ایم سی کے ایک سینئر قائد اور ریاست وزیر پارتھا چٹرجی نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ دلیپ گھوش کا بیان بی جے پی قائدین کی کینہ پرور ذہنیت کا غماز ہے۔ ہم ریاست کے امن و امان اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے کیے گئے اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کرتے ہیں۔ مشرقی مدناپور میں پولیس نے دلیپ گھوش کے خلاف لوگوں کو تشدد پر اکسانے کا کیس درج کرلیا ہے۔ اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے گھوش نے کہا کہ ان کی پارٹی کے ورکروں پر اگر اس طرح حملے ہوتے رہے تو وہ ایسے بیانات دیتے رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مغربی بنگال کی پولیس نے قبل ازیں ان کے خلاف 22 کیسس درج کیے۔ ایک اور کیس کے اضافے سے ان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے۔