عدم گرفتاریوں کی وجہ سے خاطیوں کے حوصلے بلند ۔ پولیس کے رول پر شبہ، راجندر نگر پولیس کی خاموشی عوام میں تشویش کا سبب
حیدرآباد۔ 17 اپریل (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے راجندر نگر علاقہ میں غیر سماجی عناصر کی سرگرمیاں ہرگذرتے دن کے ساتھ زور پکڑتی جارہی ہیں۔ روڈی اور غنڈہ عناصر سر عام اپنی سرگرمیوں سے عوام میں خوف پیدا کررہے ہیں جبکہ پولیس ان کے خلاف کارروائی میں بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ عوام کا تاثر ہے کہ سیاسی پشت پناہی کے سبب علاقہ میں غنڈہ عناصر کا زور اور ان کی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اراضیات، سیول معاملات، رقمی لین دین ‘مکانات کا تخلیہ کروانا، ناجائز معاملات کی یکسوئی و دیگر ’ معاملات ‘کے واقعات میں غنڈہ عناصر سرگرم دکھائی ہیںاور خوب کمائی کر رہے ہیں ۔ حد تو یہ ہوچکی ہے کہ اب وہ خاندانی معاملات اور تنازعہ میں ملوث ہونے لگے ہیں۔ سیاسی پشت پناہی کے سبب ان غنڈہ عناصر کے حوصلے بلند ہونے لگے ہیں اور سیاسی پشت پناہی کا ’ عذر ‘ پیش کرتے ہوئے پولیس بھی ان کے خلاف کارروائی سے بے بسی کا اظہار کر رہی ہے۔ غنڈہ گردی کی شناخت رکھتے ہوئے لباس بدل کر گھومنے والے افراد سرکاری عہدیداروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش میں سرگرم ہیں اور وہیں دوسری طرف غنڈہ گردی کو ہوا دے رہے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں کے درمیان راجندر نگر اور عطاپور پولیس اسٹیشن حدود میں غیر سماجی عناصر کی غنڈہ گردی کے واقعات منظر عام پر آچکے ہیں۔ عطاپور حدود میں سر عام ایک پان شاپ کے مالک پر حملہ ‘اس سے قبل ایک مکان پر حملہ ایک اور سرگرم ٹولی کی کھلے عام غنڈہ گردی اور اب ایک تازہ واقعہ میں تین تا چار افراد کو زخمی کردیا گیا۔ خاندانی اور آپسی تنازعہ میں مداخلت کرکے چند افراد نے ایک خاندان پر حملہ کیا اور چند افراد کو شدید زخمی کردیا گیا۔ سوتیلی بہنوں کے تنازعہ میں ایک فریق کی مدد کے نام پر ایک گروپ نے جو 10 تا 15 افراد پر مشتمل تھا چند افراد کو شدید مارپیٹ کا نشانہ بنایا۔ شکایت گذار سید ریاض الدین نے جو ایم ایم پہاڑی راجندر نگر علاقہ کے ساکن ہیں ‘ پولیس میں شکایت درج کروائی اس کے باوجود ان کی شکایت پر تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ سید ریاض نے ان کے سوتیلے ہم زلف عظمت عرف اجو اور ان کے ساتھیوں پر قاتلانہ حملہ کا الزام لگایا۔ اس حملے میں چند افراد زخمی ہوگئے جن کا علاج جاری ہے۔ الزام ہے کہ جن افراد نے ان پر حملہ کیا ان کا تعلق ایک مقامی لیڈر سے ہے جو اس کے اشارے پر کام کرتے ہیں اور وہ انکے خلاف کارروائی ہونے نہیں دیتا۔ مقامی عوام جو ان حالات اور واقعات سے پریشان ہیں پولیس سے سوال کرتے ہیں کہ کیا پولیس اتنی بے بس و لاچار ہوگئی ہے کہ معمولی غنڈہ عناصر کے خلاف بھی کارروائی سے قاصر ہے ۔آخر کیوں پولیس کی جانب سے ایسی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔ پولیس کو چاہئے کہ وہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے اور عوام میں اعتماد بحال کرے۔ ع؍F