سری نگر: ایک ایسے وقت میں جب معاشرے میں تیزی سے پھیل رہی منشیات کی لعنت تشویش ناک صورتحال اختیار کر رہی ہے تو شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس کی اس لعنت کی بیخ کنی کو یقینی بنانے کے لئے جاری جنگ میں ہاتھ بٹانے کے لئے ائمہ مساجد سامنے آئے ہیں۔ ضلع کی کئی مساجد میں ائمہ حضرات نے اپنے جمعہ خطبوں میں منشیات کے منفی اثرات پر روشنی ڈالی اور سامعین کو اس مضر ترین سماجی لعنت کے متعلق ضروری جانکاری فراہم کی۔ ایس ایس پی بارہمولہ امود ناگپور نے جمعہ کی شام ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ضلع بارہمولہ کے اطراف میں زائد از ایک سو مساجد میں ائمہ حضرات نے منشیات کی لعنت کے متعلق جانکاری کے موضوعات پر خطبے دئے ۔ انہوں نے کہا کہ ان سب نے ضلع بارہمولہ کو منشیات سے پاک بنانے کے لئے پولیس کے ساتھ ہاتھ ملانے کا عزم کیا ۔ کشمیر میں منشیات کی لعنت انتہائی سنگین اور خطرناک رخ اختیار کر رہی ہے جس سے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ وزارت سماجی انصاف اور ایمپاورمنٹ کی طرف سے کرائے گئے ایک سروے کے مطابق جموں وکشمیر میں نشہ کرنے والوں کی تعداد قریب ایک ملین تک پہنچ گئی ہے ۔ حکام کا ماننا ہے کہ جموں وکشمیر کے لئے ملی ٹنسی سے زیادہ خطرناک منشیات ہے ۔