ممبئی ، 12 اکتوبر (یو این آئی)بامبے ہائی کورٹ نے ایک پوکسو (POCSO) ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم کی جانب سے دائر کی گئی حبس بیجا (ہیبیس کارپس) درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرم بلاشبہ سنگین نوعیت کا ہے ” اور ”درخواست گزار کے خلاف مضبوط شواہد موجود ہیں” جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ 2022 میں گرفتار اس شخص نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی گرفتاری غیرقانونی تھی کیونکہ اسے وجوہات سے مطلع نہیں کیا گیا تھا۔جسٹس سارنگ کوتوال اور جسٹس شیام چانڈک پر مشتمل ڈویژن بنچ نے 7 اکتوبر کو اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار پر 14 اور 11 سالہ دو نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی استحصال کا الزام ہے ، لیکن وہ مبینہ قانونی طریقہ کار میں کسی خامی سے پیدا ہونے والے تعصب کو ظاہر کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ”درخواست گزار نے ایسا کوئی نقصان یا تعصب ظاہر نہیں کیا جس سے اس کے دفاع پر اثر پڑا ہو۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ مقدمہ سنگین نوعیت کا ہے اور استغاثہ کے پاس موجود شواہد کافی مضبوط ہیں۔ استغاثہ کے مطابق، معاملہ اس وقت سامنے آیا جب بائیکلہ جیل سے وابستہ ایک سماجی کارکن نے ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کو مطلع کیا کہ ایک خاتون قیدی کی دو بیٹیوں کو ایک شخص نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، جو ان کے ساتھ رہ رہا تھا جب ان کی ماں جیل میں تھی۔اس اطلاع کے بعد چائلڈ ویلفیئر کمیٹی نے مداخلت کی اور جولائی 2022 میں میگھ واڑی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم لڑکیوں کو ایک سیرگاہ میں لے گیا اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی