پٹرولیم اشیا پر ٹیکس میں کمی

   

Ferty9 Clinic

ابھی مشکل سے سمجھے گا زمانہ
نیا نغمہ نئی آواز ہوں میں
مرکزی حکومت کی جانب سے پٹرولیم اشیا پر سنٹرل اکسائز ڈیوٹی میں تخفیف کرتے ہوئے عوام کو دیوالی کے موقع پر راحت دینے کا اعلان کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی حکومتوں کی جانب سے ریاستی محاصل ویاٹ وغیرہ میں مزید کمی کے اعلانات کئے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو راحت دی جاسکے ۔ درا صل یہ راحت ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد دی جا رہی ہے کیونکہ عوام نے ضمنی انتخابات میں مہنگائی کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کو پریشانیوں سے دو چار کردیا تھا ۔ عوام نے ان ریاستوں میں بھی بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا تھا جہاں بی جے پی ہی برسر اقتدار ہے ۔ مرکز میں نریندر مودی حکومت اور مختلف ریاستوں کی حکومتوں کی جانب سے پٹرولیم اشیا پر اکسائز ڈیوٹی ‘ سرچارچ اور مختلف ٹیکس عائد کرتے ہوئے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا تھا ۔ جو نقصانات کورونا وباء اور لاک ڈاون کے دوران ہوئے تھے ان کی پابجائی ملک کے عوام سے کی جا رہی تھی ۔ وقفہ وقفہ سے پٹرولیم اشیا پر محاصل میں اضافہ کیا جا رہا تھا اور یومیہ بنیادوں پر قیمتیں کم کی جا رہی تھیں۔ قیمتوں میں اضافہ کو عالمی منڈی میں ہونے والے اتار چڑھاو سے مربوط کیا جا رہا تھا لیکن جس وقت عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی آئی تھی اس وقت بھی عوام کو کوئی راحت نہیں دی گئی تھی اور قیمتیں برقرار رکھتے ہوئے سرکاری خزانہ بھرنے پر توجہ دی گئی تھی ۔ اب حالانکہ عوام کو راحت دینے کا دعوی کیا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہی نظر آتی ہے کہ ضمنی انتخابات کے نتائج نے حکومت کو متفکر کردیا ہے ۔ حکومت کیلئے عوام کی نبض کو سمجھنا اب ضروری ہوگیا ہے اور عوامی رجحان کو دیکھتے ہوئے ہی قیمتوں میں کمی لانے کے مقصد سے محاصل میں کٹوتی کی جا رہی ہے ۔ مختلف ریاستوں میں قائم بی جے پی حکومتیں بھی مرکز کے نقش قدم پر چلتے ہوئے محاصل میں کمی کر رہی ہیں اور یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ عوام کو راحت دی جا رہی ہے۔ در اصل عوام کے غم و غصہ کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ سال کے اوائل میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی جاسکے ۔
ہماچل پردیش میں اسمبلی کی چار نشستوں کیلئے ضمنی انتخاب ہوا تھا اور چاروں پر بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور کانگریس نے وہاں کامیابی حاصل کرلی ۔ منڈی لوک سبھا حلقہ سے بھی کانگریس نے کامیابی حاصل کرلی اور بی جے پی سے یہ حلقہ چھین لیا ۔ کرناٹک میں چیف منسٹر بومائی کے گڑھ سمجھے جانے والے ضلع میں ایک اسمبلی نشست کانگریس نے بی جے پی سے چھین لی ۔ ہریانہ میں بھی کانگریس کو بی جے پی سے ایک نشست چھیننے کا موقع مل گیا ۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس نے چار نشستوں پر ہوئے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرلی اور تین نشستوں پر بی جے پی کی ضمانت تک بھی نہیں بچ پائی ۔ شیوسینا نے ایک حلقہ لوک سبھا پر اور ترنمول کانگریس نے ایک حلقہ سے کامیابی حاصل کی ۔ اس طرح بی جے پی کو پہلی مرتبہ انتخابات میں عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ بی جے پی کے حلقوں میں ضمنی انتخاب پر تشویش کی لہر ضرور پیدا ہوئی تھی حالانکہ میڈیا اور سوشیل میڈیا میں اس کو اجاگر نہیں کیا گیا اور عوام کو کسی اور مسئلہ میں الجھانے کی کوشش کی گئی تھی ۔ لیکن عوام نے خاموشی کے ساتھ اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے غم و غصہ اور ناراضگی سے حکومت کو واقف کروادیا تھا اور اپوزیشن کو موقع دیا ۔ یہی وہ نتائج تھے جن کے بعد بی جے پی عوام کی مشکلات پر غور کرنے کیلئے اور انہیں راحت پہونچانے کے اقدامات کیلئے مجبور ہوگئی ہے ۔ حالانکہ پٹرول قیمتوں میں اضافہ کو حق بجانب قرار دینے سوشیل میڈیا پر بہت زیادہ مہم بھی چلائی گئی تھی ۔
ضمنی انتخابات کے نتائج نے نہ صرف حکومت کو پیام دیا ہے کہ عوام اس سے ناراض ہیں اور اسے عوامی مشکلات پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے بلکہ نتائج سے خود عوام کو بھی یہ پیام ملا ہے کہ ان کے ووٹ کی طاقت کیا ہوتی ہے ۔ چند حلقوں میں اگر حکومتوں کے خلاف ووٹ کا استعمال کیا جاتا ہے تو حکومت کو عوام کی توقعات کے مطابق کام کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت کی چاپلوسی کرنے کی بجائے حکومت کو عوام کی خوشامد کیلئے مجبور کیا جاسکتا ہے اگر باشعور انداز میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا جائے ۔ بحیثیت مجموعی ایک اچھے فیصلے کا عوام کو فائدہ مل رہا ہے اور اس کو بنیاد بنا کر مستقبل میں بھی ایسے فیصلے کرنے کی ضرو رت ہے ۔