ظلمتوں کے اُداس جنگل میں
صبح ہوتی کوئی سہانی بھی
ملک بھر میں پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں اضافی اور اس کے ذریعہ عوام پر مسلسل بوجھ عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ ہر گذرتے دن کے ساتھ خاموشی کے ساتھ پٹرول ‘ ڈیزل وغیرہ کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں اور وقفہ وقفہ سے پکوان گیس کی قیمتوں میں بھی بھاری اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اس طرح مسلسل اضافے کے خلاف عوام میں ناراضگی اور غم و غصہ پایا جاتا ہے لیکن وہ احتجاج سے گریزاں ہیں۔ عوام اس پر احتجاج سے بھلے ہی گریز کر رہے ہوں لیکن اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مسلسل اس مسئلہ پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ گذشتہ دو سال میں پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں ریکاڈ اضافہ کردیا گیا ہے ۔ کبھی مارکٹ قیمتوں میں کمی آتی ہے تو اس کا فائدہ عوام کو منتقل کرنے کی بجائے حکومت اپنی اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کردیتی ہے اور نت نئے سرچارجس عائد کرتے ہوئے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے ۔ مسلسل بوجھ عائد کرتے ہوئے عوام کو حد درجہ پریشان کردیا گیا ہے ۔ عوام مختلف مسائل کا پہلے ہی شکار ہیں اور اب پٹرولیم اشیا کی قیمتوں اور اس کی وجہ سے بڑھنے والی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ ملک میں جملہ گھریلو پیداوار میں کمی کے باوجود حکومت پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں کمی کرتے ہوئے عوام کو راحت پہونچانے کو تیار نہیں ہے ۔ حالانکہ گذشتہ دنوں چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن نے ریاست میںتین روپئے تک پٹرولیم قیمتوں میں کمی کردی تھی جس کے نتیجہ میں عوام کو قدرے راحت ملی ہے ۔ یہ مرکزی حکومت کیلئے ایک مثال ہوسکتی ہے اگر حکومت اس پر عمل کرتی ہے تو ملک بھر میں کروڑوں صارفین کو اس سے فائدہ ہوگا ۔ اس کے نتیجہ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے اس کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے لیکن مرکزی حکومت ایسا کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ خاموشی کے ساتھ مسلسل اضافہ کرتے ہوئے غیر محسوس طریقے سے عوام کو لوٹا جا رہا ہے ۔ سرکاری خمانہ بھرنے کے ایجنڈہ کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے عوام کو درپیش ہونے والی مشکلات اور پریشانیوں کو کوئی بھی خاطر میں لانے کیلئے تیار نہیں ہے ۔
ملک بھر میں یہ صورتحال ہوگئی ہے کہ مرکزی حکومت مسلسل قیمتوں پر نظرثانی کر رہی ہے ۔ یومیہ اساس پر قیمتیں معمولی اضافے کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہیں اور عوام کو محسوس تک کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا ہے ۔ اسی طرح ریاستی حکومتیں بھی مرکزی حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قیمتوں میں کسی طرح کی اپنے طور پر راحت دینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ریاستی حکومتیں بھی اپنے محاصل کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ وہ مہنگائی اور قیمتوں میں اضافہ کیلئے مرکز کو ذمہ دار قرار دے رہی ہیں۔ مرکزی حکومت اپنی جانب سے آئیل کمپنیوں کو مکمل اختیارات دے چکی ہیں۔ قیمتوں کو حکومت کے کنٹرول سے آزاد کردیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں تیل کمپنیاں محض تجارتی اور نفع بخش تجارت کو یقینی بنانے کیلئے عوام پر بوجھ عائد کرتی جا رہی ہیں۔مرکزی حکومت اپنے محاصل اور اکسائز ڈیوٹی میں کمی لاتے ہوئے عوام کو راحت دینے تیار نہیں ہے اور نہ ہی بین الاقوامی مارکٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا فائدہ ہی عوام کو وقتی طور پر پہونچانے تیار ہیں۔ مرکزی حکومت اب تک پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور مختلف محاصل عائد کرتے ہوئے لاکھوں کروڑ روپئے وصول کرچکی ہے لیکن اس کا کوئی بھی فائدہ عوام تک نہیں پہونچ سکا ہے ۔ حکومت دھڑلے کے ساتھ یہ دعوے کر رہی ہے کہ اضافی قیمتوں سے ملنے والی رقومات کو عوام کو مفت راشن اور چاول اور ٹیکے دئے جا رہے ہیں۔ یہ عذر حد درجہ بچکانہ اور ناقابل قبول ہی کہا جاسکتا ہے ۔
مرکزی حکومت سے بڑے بڑے کارپوریٹ اداروں اور تاجروں کو لاکھوں کروڑ روپئے کی مراعات دی جا رہی ہیں۔ قرضہ جات دئے جا رہے ہیں اور یہ لوگ قرضے حاصل کرتے ہوئے ملک سے فرار ہو رہے ہیں لیکن حکومت ان سے یہ عوامی رقومات واپس لینے کچھ نہیں کر رہی ہے ۔ بڑے کارپوریٹ اداروں کو عوامی شعبہ کی املاک اور ادارے اور کمپنیاں فروخت کی جا رہی ہیں۔ سرکاری سرمایہ کو تباہ کیا جا رہا ہے لیکن عوام کو معمولی سی راحت دینے حکومت تیار نہیں ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ عوام پر مسلسل عائد ہونے والے بوجھ کو کم کرنے اپنی نفع خوری کو کم کرے اور کچھ محاصل میںبھی ممکنہ حد تک کٹوتی لائے تاکہ قیمتوں کو کم کیا جاسکے ۔
