پٹنہ میں خاں سر کوچنگ سنٹر کے باہر فائرنگ سے سنسنی

   

سیکوریٹی گارڈ زخمی، مقامی دیگر اداروں پر حملہ کا الزام، حملہ کے خلاف طلباء کا احتجاج

حیدرآباد ۔ 3 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : پٹنہ میں خان سر جو کم فیس میں کوچنگ فراہم کرتے ہوئے عالمی شہرت حاصل کی ہے ۔ خان سر کے کوچنگ سنٹر کے باہر گولی لگنے سے ایک سیکوریٹی گارڈ زخمی ہوگیا ۔ اطلاع ملتے ہی پولیس مقام پر پہنچ گئی اور پولیس نے تحقیقات شروع کردی ۔ پولیس عینی شاہدین اور زخمی سیکوریٹی گارڈ کے بیانات قلمبند کررہی ہیں ۔ خان سر نے کم فیس اور کامیابی کے اعلیٰ شرح کو ممکنہ محرکات کے طور پر قریبی کوچنگ سنٹر کا دشمنی کا الزام لگایا ۔ منگل کو پٹنہ میں مسلح پورہاٹ کے قریب خان سر کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے باہر فائرنگ کے واقعہ میں ایک سیکوریٹی گارڈ زخمی ہوگیا ۔ جس کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کردی ۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ کے ایس ایس پی اور ایس پی سمیت سینئیر افسران موقع پر پہنچ گئے ۔ زخمی گارڈ کو علاج کے لیے دواخانہ منتقل کردیا گیا ۔ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی جانچ کرتے ہوئے حملہ آوروں کی شناخت کی کوشش کررہی ہیں ۔ پولیس کے مطابق ایک حملہ اور تھا جس کی وجہ سے ایک سیکوریٹی گارڈ زخمی ہوا ہے ۔ فائرنگ کے واقعہ کے بعد پٹنہ کے تعلیمی مرکز میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔ اس سے قبل بھی خان سر کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ پر حملہ ہوچکا ہے ۔ فائرنگ کے واقعہ کے بعد پولیس کی ٹیمیں علاقے میں تعینات کردی گئی ہیں ۔ پولیس اپنی مصروف تحقیقات میں عین شاہدین اور سیکوریٹی گارڈ کے بیانات ریکارڈ کرنا شروع کردیا ہے ۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے ایس پی کارتیکیا کے شرما نے کہا کہ یہ جسمانی حملہ کا معاملہ ہے جس میں ایک گارڈ کو چوٹیں آئیں ۔ زخمی گارڈ کے علاوہ مقامی افراد کے بیانات بھی ہماری تفتیش کے لیے بے حد اہم ہے ۔ سبھی کے بیانات حاصل کئے جارہے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ کی جارہی ہے اور بہت جلد حملہ آور کی شناخت کرتے ہوئے اس کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی ۔ ایس پی نے تیقن دیا کہ اس حملہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ خان سر نے اس حملہ کو ان کے ادارے کی مقبولیت سستی فیس اور تعلیمی نتائج پر ناراضگی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ کم فیس میں کوچنگ دینے سے دیگر اداروں پر اس کا اثر ہورہا ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ حملہ کیا گیا ۔ ہمارا مقصد کم فیس کے ذریعے غریب افراد کو بھی اعلیٰ تعلیم فراہم کرناہے اور ہم بہتر تعلیم فراہم کرتے ہوئے بہتر نتائج حاصل کررہے ہیں ۔ جس سے ہزاروں افراد اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں جس کی وجہ سے بعض سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہورہا ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ حملہ کر کے ہمیں ڈرانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ خان سر کے ان تبصرے سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد اور کامیابی کی وجہ سے انسٹی ٹیوٹ کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ خان سر نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کے قریبی انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ لوگ اس حملہ میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حملہ آوروں نے فائرنگ سے پہلے دفتر میں توڑ پھوڑ کی ۔انہیں یقین ہے کہ اس حملہ میں قریبی کوچنگ سنٹر کا ہاتھ ہے ۔ سیکوریٹی گارڈ نے حملہ آور کی شناخت کی ہے لیکن پولیس نے اس سلسلہ میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ۔ پولیس تفتیش کررہی ہے اور حملہ کرنے کے مقصد کی بھی جانچ کررہی ہے اور پولیس نے یقین دلایا کہ حملہ آور اور ان کے پیچھے کے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔طلباء نے اس حملہ کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔پٹنہ میں خان سر کے کوچنگ ادارے پر حملے اور توڑ پھوڑ کے واقعے کے بعد ریاستی حکومت نے کوچنگ اداروں کے لیے ایک جامع پالیسی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ بہار کے وزیر تعلیم متھلیش تیواری نے بدھ کے روز کہا کہ حکومت آئندہ تین ماہ کے اندر ایسی پالیسی تیار کرے گی جس کے ذریعے کوچنگ اداروں کی سرگرمیوں کو منظم کیا جا سکے اور باہمی رقابت کے نتیجے میں نظم و نسق کی صورت حال متاثر ہونے سے روکا جا سکے۔

ش m/b