پڑوسی ریاستوں میں کورونا میں شدت کے سبب تلنگانہ میں کیسس میں اضافہ

   

عوام کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، 95 فیصد کا گھر پر علاج ، وزیر صحت راجندر کا بیان
حیدرآباد۔ وزیر صحت ای راجندر نے کہا کہ تلنگانہ میں کورونا کیسس میں اضافہ کی اہم وجہ پڑوسی ریاستوں میں کیسس کی تعداد میں اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر سے عوام کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ پہلی لہر کے مقابلہ متاثرین کی تعداد زیادہ ہے لیکن 95 فیصد افراد ہاسپٹل میں شریک ہوئے بغیر ہی صحت یاب ہورہے ہیں انہیں آکسیجن یا وینٹی لیٹر کی کوئی ضرورت نہیں ہے صرف 5 فیصد مریضوں کو علاج کیلئے دواخانوں سے رجوع کیا جارہا ہے۔ راجندر نے سوریا پیٹ ضلع کا دورہ کرتے ہوئے سرکاری دواخانوں میں کورونا علاج کی سہولتوں کا جائزہ لیا۔ وزیر برقی جگدیش ریڈی کے ہمراہ وزیر صحت نے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ماں اور بچوں کی نگہداشت کیلئے خصوصی مراکز قائم کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی پڑوسی ریاستوں میں کیسس میں اضافہ کا اثر ریاست پر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کورونا سے نمٹنے کیلئے ہر طرح تیار ہے۔ سوریا پیٹ میں 17 کروڑ کے مصارف سے 250 بستروں پر مشتمل ماں اور بچہ کی نگہداشت سنٹر کا افتتاح عمل میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں آکسیجن کی کوئی قلت نہیں ہے۔ دواخانوں میں مریضوں کیلئے بستر دستیاب ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آکسیجن اور بستر کی قلت کے بارے میں افواہوں کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہر پرائمری ہیلت سنٹر میں کورونا کے ٹسٹ کا انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ریاستوں کے مقابلہ تلنگانہ میں کورونا کی صورتحال قابو میں ہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ سرکاری دواخانوں میں کورونا کے علاج کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ اسی دوران راجندر نے ورنگل میں کوویڈ کے علاج کی سہولتوں کا ایم جی ایم ہاسپٹل میں جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کورونا سے اُبھرنے والی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم جی ایم ہاسپٹل میں مزید 300 بستروں کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔ ایم جی ایم میں فی الوقت 100 وینٹی لیٹرس اور 100 آئی سی یو بستر موجود ہیں۔ ہاسپٹل میں کورونا کے شکار 240 مریضوں کا علاج جاری ہے۔