سرینگر: این آئی اے کی اعلیٰ سطح کی ٹیم نے آج پہلگام کے بیسرن علاقے کا دوبارہ دورہ کیا جہاں دہشت گرد حملے میں 26 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے ۔این آئی اے کی ٹیم نے جدید تفتیشی آلات کی مدد سے علاقے کی تھری ڈی میپنگ اورڈرونز کے ذریعے جائے وقوعہ اور اس کے اردگرد گھنے جنگلاتی علاقوں کا جائزہ لیا۔ذرائع نے بتایا کہ جنگلاتی علاقہ ہونے کی وجہ سے سرچ آپریشن میں خصوصی آلات، ڈرونز اور نقشہ ساز ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ خفیہ ٹھکانوں یا شواہد کو تلاش کیا جا سکے ۔دریں اثنا، قومی تحقیقاتی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل جمعے کو مسلسل دوسرے دن سری نگر میں موجود رہے جہاں وہ پہلگام دہشت گرد حملے کی تفتیش کے سلسلے میں مختلف سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم میٹنگوں کی صدارت کر رہے ہیں۔ یہ اجلاس جموں و کشمیر پولیس، سی آر پی ایف، آرمی اور انٹیلی جنس بیورو کے سینئر افسران کے ساتھ ہو رہے ہیں، جن میں حملے کی نوعیت، منصوبہ بندی، ممکنہ دراندازی کے راستے ، اور مقامی سطح پر سہولت کاری کے امکانات پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز این آئی اے کے سربراہ نے خود پہلگام کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے جائے واردات کا جائزہ لیا اور ابتدائی تفتیشی کارروائیوں کی نگرانی کی۔ انہوں نے موقع پر موجود اہلکاروں سے بھی تفصیلات حاصل کیں۔پولیس اور نیم فوجی دستوں نے بیسرن علاقے کے گرد و نواح میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ مقامی لوگوں سے تفتیش کی جا رہی ہے جبکہ کئی مشتبہ افراد کو پوچھ تاچھ کیلئے حراست میں لیا گیا ہے ۔