امریکی صدر ٹرمپ کے قریبی اتحادی کو سیاسی بحران کا سامنا، لاکھوں صارفین کی جمع پونجی منجمد
اسونسیون، 6 نومبر (ایجنسیز) جنوبی امریکی ملک پیراگوئے میں ایک بڑے تجارتی بینک کے انہدام کے بعد پیدا شدہ مالیاتی اور سیاسی بحران نے صدر سانتیاگو پینا کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا۔ صدر پینا امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی تصور کئے جاتے ہیں۔ ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع ہونے کے بعد انہوں نے جمعرات کو اپنے عہدہ سے سبکدوش ہونے کا اعلان کیا۔ اطلاعات کے مطابق ریگولیٹری حکام نے منگل کو یونو بینک (Ueno Bank) کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا، جس کے نتیجہ میں لاکھوں صارفین، بشمول وظیفہ یاب افراد کی جمع پونجی تک رسائی منجمد ہوگئی۔ ملک کی تقریباً ایک تہائی آبادی اس بینک میں کھاتے رکھتی ہے۔ اس صورتحال کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوگیا۔ بینک کے معاملات اور حکومت سے اس کے مبینہ قریبی تعلقات نے بھی تنازعہ کو شدت دی۔ صدر پینا ماضی میں بینک کی سرپرست کمپنی میں حصہ داری رکھتے تھے، جبکہ سرکاری رقوم کے بڑے ذخائر بھی اس بینک میں جمع کئے گئے تھے۔ مرکزی بینک کے سربراہ کارلوس کاروالو نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔ برسراقتدار کولوراڈو پارٹی کے بااثر رہنما ہوراسیو کارتیس نے بھی صدر کی برطرفی کی حمایت کردی۔ دوسری جانب نائب صدر پیڈرو الیانا آئینی طور پر جانشینی کے ممکنہ امیدوار ہیں۔ بحران کے باعث ملک کی کرنسی اور سرکاری بانڈس بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
بینک صارفین کا سڑکوں پر احتجاج
پیراگوئے میں یونو بینک کے مالیاتی بحران کے بعد لاکھوں صارفین اپنی جمع پونجی تک رسائی سے محروم ہوگئے، جس کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ متاثرین میں وظیفہ یاب اور عام شہری بھی شامل ہیں۔ ایک 68 سالہ صارف مارسیلینو ورگارا نے کہا کہ ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی پھنس گئی ہے۔ مرکزی بینک نے شدید مالی خسارے کے باعث یونو بینک کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس بینک کے تقریباً 30 لاکھ صارفین ہیں۔