پیگاسیس ‘ حقائق منظر عام پر لائے جائیں

   

Ferty9 Clinic

قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر
جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
پیگاسیس جاسوسی سافٹ وئیر کے ذریعہ ہندوستان میں اہم شخصیتوں کی جاسوسی کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ حالانکہ بی جے پی زیر قیادت مودی حکومت کی جانب سے اس مسئلہ پر حقائق کو منظر عام پر لانے سے مسلسل گریز کیا جا رہا ہے جبکہ اپوزیشن کا مسلسل مطالبہ ہے کہ اس سارے معاملہ کی جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں۔ بی جے پی کا یہ موقف رہا تھا کہ یہ سارا مسئلہ محض فرضی ہے اور اس پر پارلیمنٹ کا وقت ضائع نہیں کیا جانا چاہئے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بی جے پی اس سا رے مسئلہ کو کسی نہ کسی طرح پوشیدہ رکھنا چاہتی ہے ۔ مختلف گوشوں کی جو رائے ہے اس کے مطابق اگر اس سارے مسئلہ کے حقائق کو منظر عام پر لادیا جائے تو حکومت کیلئے بھی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ حکومت نے نہ صرف اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور وزراء کی جاسوسی کروائی ہے بلکہ کئی ایسے افراد کی جاسوسی بھی کی گئی ہے جو خود حکومت کے بااعتماد سمجھے جاتے ہیں۔ اس فہرست کا حالانکہ ابھی انکشاف نہیں ہوا ہے لیکن حکومت کی جانب سے تحقیقات سے گریز سے شبہات کو تقویت حاصل ہوتی جا رہی ہے ۔ جس طرح اپوزیشن جماعتیں اس سارے معاملہ کی تحقیقات پر زور دے رہی ہیں اسی طرح بی جے پی کی حلیف جنتادل یونائیٹیڈ کے لیڈر و چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے بھی اس سارے معاملہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ساری تفصیل کو منظر عام پر لایا جانا چاہئے ۔ چونکہ ہماری حکومت عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئی ہے اس لئے عوام کے ذہنوں میں اس تعلق سے جو اندیشے اور شبہات پائے جاتے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے حکومت کو اس سارے مسئلہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا اعلان کرنا چاہئے ۔ اس مسئلہ پر کچھ افراد کی جانب سے سپریم کورٹ میں بھی درخواست داخل کی گئی ہے اور عدالت میں5 اگسٹ کو اس معاملہ کی سماعت ہونے والی ہے ۔ سارا کچھ ہونے کے باوجود حکومت تحقیقات سے گریزاں ہی دکھائی دے رہی ہے جس کے نتیجہ میں مختلف شبہات کو تقویت ملتی جا رہی ہے ۔ شبہات کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن وہ اسے پورا کرنے سے انکار ہی کرتی جار ہی ہے ۔
حکومت نے اس انتہائی سنگین اور اہمیت کے حامل مسئلہ پر صرف ایک بیان دیا ہے کہ کوئی غیر قانونی جاسوسی نہیں کی گئی ہے ۔ اس میں نہ کسی سوال کا جواب ہے اور نہ ہی کوئی تفصیلی وضاحت ہے ۔ حکومت نے یہ انکار نہیں کیا ہے کہ جن ناموں کا افشاء ہوا ہے ان کی جاسوسی کروائی گئی ہے یا نہیں۔ حکومت نے یہ بھی نہیں بتایا کہ آخر اس جاسوسی کی ضرورت کیوں آن پری تھی ۔ یہ بھی سوال جواب طلب ہی ہے کہ آحر اس جاسوسی کا حکم کس نے دیا تھا ۔ آخر پیگاسیس جاسوسی سافٹ وئیر کی خریدی کب کی گئی تھی ۔ اس کا استعمال کس کس کے خلاف کیا گیا ہے ۔ اس سافٹ وئیر کی خریدی کیلئے رقومات کس نے ادا کی تھیں ؟ ۔ یہ سارے سوال ایسے ہیں جو عوام کے ذہنوں میںمزید سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سکیوریٹی ایجنسیوں کے موجودہ اور سابقہ سربراہان کی جاسوسی کرتے ہوئے ملک کی سکیوریٹی کے اہم ترین مسئلہ پر سمجھوتہ کیا گیا ہے ۔ حکومت اس پر محض ایک سطری بیان دیتے ہوئے بری الذمہ نہیں ہوسکتی کیونکہ اس جاسوسی سافٹ وئیر کو تیار کرنے والی اسرائیلی کمپنی این ایس او نے واضح کردیا ہے کہ اس نے دنیا بھر میں یہ سافٹ وئیر صرف حکومتوں کو فروخت کیا ہے ۔ کسی کے فون تک اس کے علم و اطلاع کے بغیر رسائی حاصل کرلینا اور اس کے سارے ڈاٹا کو حاصل کرلینا یہ غیر اخلاقی ہی نہیں بلکہ غیر قانونی عمل بھی ہے اور حکومت محض اتنا کہتے ہوئے بری الذمہ ہونے کی کوشش کر رہی ہے کہ کوئی غیر قانونی جاسوسی نہیں کی گئی ہے ۔
ملک کی مختلف اپوزیشن جماعتیں مسلسل پارلیمنٹ میں اصرار کر رہی ہیںکہ پیگاسیس جیسے سنگین مسئلہ پر ایوان میں مباحث کئے جائیں ۔ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروائی جائیں اور حقائق کو منظر عام پر لایا جائے لیکن حکومت کسی نہ کسی بہانے یا ہتھکنڈے کے ذریعہ ایسا کرنے سے گریز کر رہی ہے ۔ پارلیمنٹ کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے لیکن ایک واجبی مطالبہ کو تسلیم کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جے ڈی یو کی طرح حکومت کی دوسری حلیف جماعتیں بھی اس انتہائی اہمیت کے حامل مسئلہ پر حکومت سے سوال کریں اور اس معاملے کی تحقیقات کیلئے حکومت پر دباؤ بنائیں ۔