چیف منسٹر مغربی بنگال و ترنمول کانگریس سربراہ ممتابنرجی نے دعوی کیا ہے کہ جاسوسی سافٹ ویر پیگاسیس انہیں بھی فروخت کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ ریاست میں اپوزیشن کو نشانہ بنایا جاسکے ۔ ان کے فون ٹیپ کئے جاسکیںا ور ان کی جاسوسی کی جاسکے ۔ ممتابنرجی نے دعوی کیا کہ تین سال قبل کچھ لوگ مغربی بنگال پولیس سے رجوع ہوئے تھے اور کہا تھا کہ وہ یہ سافٹ وئیر 25 کروڑ روپئے میں فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ جب یہ تجویز ان کے سامنے آئی تو انہوں نے یہ تجویز مسترد کردی کیونکہ ان کے خیال میں کسی کے بھی شخصی معاملات میں مداخلت نہیں کی جانی چاہئے ۔ اظہار خیال کی آزادی ہونی چاہئے اور کسی کی جاسوسی نہیں کی جانی چاہئے ۔ ممتابنرجی کا کہنا تھا کہ اگر یہ سافٹ ویر قومی سکیوریٹی کیلئے ہوتا یا قومی مفادت میںہوتا تو یہ الگ بات ہوتی لیکن اسے سیاسی مقصد براری کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے جو ناقابل قبول ہے ۔ ممتابنرجی کا سب سے اہم دعوی یہ ہے کہ اس سافٹ وئیر کو بی جے پی اقتدار والی کئی ریاستوں نے خریدا ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ عرصہ قبل کئی تحقیقاتی صحافتی اداروں نے یہ انکشاف کیا تھا کہ ہندوستان میں سینکڑوں اپوزیشن قائدین ‘ مرکزی وزراء اور ججس تک کے فون ٹیپ کئے گئے ۔ ان کی جاسوسی کی گئی تھی ۔ اسرائیل نے دعوی کیا تھا کہ یہ سافٹ وئیر صرف حکومتوں کو فروخت کیا گیا ہے ۔ ایسے میں ممتابنرجی کا دعوی بے بنیاد نہیں ہوسکتا ۔ اس کی جانچ کی جانی چاہئے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے بھی اس سافٹ وئیر کی خریدی کا مسئلہ اور اس کے استعمال کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں جن کی سماعت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ ایسے میں ایک ریاست کی چیف منسٹر کی جانب سے اس طرح کا انکشاف کیا جانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔اس سارے معاملے کی جانچ کرتے ہوئے حقائق کو منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے ۔ یہ بھی جانچ ہونی چاہئے کہ مرکزی حکومت نے اگر خریدا ہے تو اس کی ہدایت کس نے دی تھی اور ملک کی کن کن ریاستوں میں یہ سافٹ وئیر خریدا گیا تھا اور اس کی قیمت کس نے چکائی ۔
ہندوستان میں کسی کی پرائیویسی میں مداخلت کی گنجائش نہیں ہے ۔ ہر شخص کو دستور میں اس کی آزادی اور حقوق دئے گئے ہیں۔ اگر حکومتیں سیاسی اغراض و مقاصد کیلئے اس طرح کی کوششیں کرتی ہیں تو یہ انتہائی افسوسناک عمل ہے ۔ اس سے جمہوری ڈھانچہ کو بھی نقصان ہوسکتا ہے ۔ اپوزیشن کے وجود پر سوال پیدا ہونے لگے ہیں۔ جس طرح سے اپوزیشن کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے اس میں یہ اندیشے بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ کئی اپوزیشن قائدین کو نشانہ بنانے کیلئے ان کے فون ٹیپ کئے گئے ۔ ان کے فون تک رسائی حاصل کرتے ہوئے جاسوسی کی گئی ۔ یہ سب کچھ غیر قانونی کام ہیں۔ اگر حکومتیں یہ غیر قانونی کام کرتی ہیں تو پھر اس کی سنگینی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوگا ۔ جو انکشاف صحافتی اداروں کی جانب سے کیا گیا تھا ایک طرح سے اس کی توثیق ہوتی نظر آ رہی ہے ۔ سپریم کورٹ میں حکومت نے ابھی تک واضح انداز میں یہ نہیں کہا ہے کہ آیا پیگاسیس سافٹ وئیر اس نے خریدا تھا یا نہیں۔ اگر خریدا تھا تو اس کی اجازت کس نے دی تھی ۔ اس کی قیمت کس نے چکائی اور کس مد سے یہ رقم خرچ کی گئی ۔ کس محکمہ کے بجٹ سے اس کی ادائیگی کی گئی ہے ۔ یہ سارے سوال ہیں جن کا جواب دیا جانا چاہئے ۔ ممتابنرجی کے انکشاف کے بعد مزید اپوزیشن قائدین کو مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے اندیشے اور بھی تقویت پانے لگے ہیں۔ ملک کی عدالتیں بھی اس طرح کے انکشافات کا نوٹ لیتی ہیں تو تحقیقات مستحکم ہوسکتی ہیں ۔
خود ممتابنرجی سے اس معاملے میں مزید معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ بنگال پولیس سے وہ کون سے عناصر تھے جو اس سافٹ وئیر کی فروخت کیلئے رجوع ہوئے تھے ۔ ممتابنرجی تک یہ تجویز کس نے پہونچائی تھی ۔ کس نے اس کی قیمت کا تعین کیا تھا ۔ کون سے عناصر ایسے تھے جو چاہتے تھے کہ یہ سافٹ وئیر استعمال کیا جائے ۔ ان کے مقاصد کیا رہے ہونگے ۔ ان سارے امور کو ملک کے عوام کے سامنے لانے کی ضرورت ہے ۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جاسوسی کی گئی ہے اور اس سے اپوزیشن کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ یہ ملک کے وفاقی ڈھانچہ کے اصولوں کے خلاف اقدام رہا ہے اور اس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے حقائق کو عوام کے سامنے لانا چاہئے اور ان عناصر کو بھی بے نقاب کرنا چاہئے جو یہ سافٹ وئیر فروخت کر رہے ہیں۔
