پی ایم او میں مسلم سیول سرویس آفیسرس …!

,

   

مسلم طلبہ کے شاندار مظاہرے جاری رہنے پر ہر محکمہ میں اہم عہدے یقینی

نئی دہلی : سیول سرویس میں مسلم طلبہ کی حالیہ شاندار کامیابی نے مستقبل میں تمام سرکاری محکموں میں مسلم آفیسرس کی تعیناتی یقینی ہوگی۔ ملک بھر میں مسلم طلبہ کے اندر آئی اے ایس اور آئی پی ایس بننے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ کئی ادارے مسلمان بچوں کو اعلیٰ تعلیم اور اعلیٰ عہدوں تک پہنچانے میں سرگرم رول ادا کررہے ہیں۔ جاریہ سال سیول سرویس میں 45 مسلم طلبہ کی کامیابی کے بعد سرکاری گوشوں اور ہندوتوا طاقتوں میں تشویش پیدا ہوگئی کہ مسلم طلبہ کا اِس طرح بڑی تعداد میں سیول سرویس کے لئے کامیاب ہونا خطرہ ہے۔ میڈیا چیانلوں مسلم طلبہ کی اِس کامیابی کو نشانہ بنایا گیا اور اسے ’یو پی ایس سی جہاد‘ قرار دیا گیا جس کی مذمت کرتے ہوئے کئی گوشوں نے تنقید کی۔ ملک میں زکوٰۃ فاؤنڈیشن نامی تنظیم اور دیگر کئی بین الاقوامی اسلامی تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت انگیز اور تعصب پسندانہ مہم کو ناکام بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔ یہ تنظیمیں سیول سرویس اور دیگر سرکاری ملازمتوں میں مسلم آفیسرس کے تقرر کے لئے مہم چلارہی ہیں۔ ملک میں پالیسی سازی، قانون سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں 90 فیصد رول بیوروکریٹس کا رہتا ہے۔ اِن بیوروکریٹس میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہونے پر یہ بات یقینی ہوجائے گی کہ ہر شعبہ محکمہ میں مسلمان آفیسر تعینات ہوں گے۔ حکومت ہند کے نظم و نسق کے لئے ذمہ دار کابینی سکریٹریٹ اور دیگر محکموں میں مسلمانوں کا غلبہ ہوگا۔ پی ایم او میں بھی مسلم عہدیدار جگہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ساؤتھ بلاک سکریٹریٹ ہاؤزس جیسے دفتر وزیراعظم، وزارت دفاع، وزارت خارجی اُمور جبکہ نارتھ بلاک میں وزارت فینانس، وزارت داخلہ میں آئندہ 45 سال کے دوران مسلم لڑکے لڑکیاں کئی عہدوں پر فائز ہوں گے۔ مسلم نوجوانوں کو مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ بہتر سے بہتر جستجو کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ اِن کی محنت، کاوشوں سے ایک دن تمام سرکاری محکموں پر اِن کا کنٹرول ہوگا۔ سیول سرویس میں مسلمانوں کی بڑی تعداد کو شامل کرنے کا مطلب روزگار نہیں ہونا چاہئے بلکہ ملک کی خدمت کے ساتھمسلم طبقہ کو بااختیار بنانے کے لئے یہ کوشش اہم ثابت ہوگی۔