قرآن پاک کی بے حرمتی ،ایمپلفائر ، سائرن سسٹم کو توڑپھوڑکی شکایت
حیدرآباد۔/11ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چادر گھاٹ کے علاقہ میں ایک مسجد کی بے حرمتی کے بعد علاقہ میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ نماز فجر کے لئے پہنچے مصلیوں نے دیکھا کہ مسجد حضرت علیؓ میں نامعلوم اشرار نے توڑ پھوڑ مچادی اور مسجد کے اندر ایمپلفائر، سائرن سسٹم اور جائے نمازوں کے علاوہ قرآن مجید کی بے حرمتی کی اور سامان کو پھینک دیا ۔ مسجد کے تقدس کی پامالی کی اطلاع کے ساتھ ہی سینکڑوں مصلیان مسجد حضرت علیؓپہنچ گئے اور اپنا احتجاج درج کروایا۔ اطلاع کے عام ہوتے ہی پولیس کا محکمہ فوری حرکت میں آگیا اور مسجد حضرت علی کی جانب تمام راستوں کو بند کردیا گیا اور پولیس کی بھاری جمعیت چادر گھاٹ طلب کرلی گئی اور مسجد کے جائے نمازریلوے ٹریک پر پائے گئے اور شرپسندوں کی اس دل آزار حرکت سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوگئے۔ تاہم پولیس کی جانب سے کارروائی اور اقدامات کے تیقن کے بعد اور ابتدائی تحقیقات کے بعد بتایا کہ یہ سارقوں کی حرکت ہے۔ تاہم مقامی مسلمانوں نے اس حرکت کے پیچھے سازش کے کار فرما ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔ پولیس نے سارے علاقہ کا محاصرہ کرنے کے بعد کلوز ٹیم کو طلب کرتے ہوئے فنگر پرنٹ حاصل کئے۔ چادر گھاٹ پولیس میں اس واقعہ کے خلاف بلا بیگ نے شکایت درج کروائی ہے۔ مقامی مصلیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز قبل بھی مسجد کے شیشوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا اور سرقہ کی یہ کوشش مسجد میں تیسری مرتبہ کی گئی ہے۔ مقامی مصلی کے مطابق مسجد کے سامان کا سرقہ کرنے کے بعد ایک رکشا جو کو قفل تھا اس میں لاد کر اسے گھسیٹتے ہوئے پاس میں موجود نالے تک گئے اور وہاں سامان کو توڑ پھوڑ کرنے کی کوشش کے دوران عوام چوکس ہوگئے جس کے ساتھ ہی یہ اشرار فرار ہوگئے۔ چادر گھاٹ پولیس نے مقامی مسلمانوں کو ان اشرار کی جلد از جلد گرفتاری کا تیقن دیا اور اس علاقہ میں طلایہ گردی میں اضافہ کا بھی بھروسہ دلایا۔