چرچ پر حملہ ’وحشیانہ عمل‘ : جرمن چانسلر

   

برلن : جرمن چانسلر اولاف شولز نے اپنی ایک ٹویٹ میں ہیمبرگ میں حملے کے متاثرین اور ان کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کے رد عمل کو سراہا۔ یورپی یونین کی کمشنر برائے داخلہ امور نے بھی فائرنگ کے اس واقعے کی مذمت کی۔جرمن چانسلر اولاف شولز اور دیگر یورپی رہنماؤں نے جرمنی کے شمالی شہر ہیمبرگ میں شاہدان یہوواہ نامی مسیحی فرقہ کے ایک اجتماع پر حملے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے ’’تشدد کا وحشیانہ عمل‘‘ قرار دیا ہے۔جمعرات کی شام حملہ آور نے گولی مار کر متعدد افراد کو ہلاک اور زخمی کر دیا تھا۔ جرمن چانسلر نے جمعہ کی صبح ٹوئٹر پر لکھاکہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فورسز کے وہ اہلکار میرے ذہن میں ہیں، جنہوں نے ایک مشکل آپریشن کا سامنا کیا ہے۔‘‘جرمن اخبار بلڈ کی ایک رپورٹ میں مرنے والوں کی تعداد سات بتائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ شہر کے شمالی علاقے گروس بورسٹیل میں واقع کنگڈم ہال کی عمارت میں فائرنگ کے دوران کم از کم 8دیگر زخمی ہوئے، جہاں ہیمبرگ پولیس کے ساتھ خصوصی دستے بھی تعینات تھے۔ حملہ رات 9بجے کے قریب ہوا، پولیس کو9:15 بجے ایک فون کال کے ذریعہ اطلاع دی گئی۔