چندرا بابو نائیڈو سے مشاورت کے بعد ہی بی جے پی میں شمولیت

   

Ferty9 Clinic

ٹی آر ایس کا مقابلہ صرف بی جے پی کرسکتی ہے ۔ کانگریس کی حالت ابتر : پرکاش ریڈی کا بیان
حیدرآباد۔/7 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلگودیشم سے بی جے پی میں شامل سینئر قائد آر پرکاش ریڈی نے وضاحت کی کہ چندرا بابو نائیڈو کی مخالفت کے سبب انہوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار نہیں کی بلکہ ان کی اجازت سے ہی انہوں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرکاش ریڈی نے کہا کہ اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں انہوں نے تلگودیشم سربراہ چندرا بابو نائیڈو سے مشاورت کے بعد ہی بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ تلگودیشم کی مخالفت یا چندرا بابو نائیڈو سے ناراضگی کو اس کے استعفی سے جوڑنے کی کوشش نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے بی جے پی میں شمولیت کا فیصلہ کیا ۔ پرکاش ریڈی نے کہا کہ تلگودیشم نے کے سی آر کو سیاسی جنم بخشا اور کے سی آر اسی پارٹی کو تلنگانہ میں ختم کرچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیاسی سبکدوشی یا پارٹی تبدیل کرنے کے مسئلہ پر چندرا بابو نائیڈو سے ان کی بات ہوئی ہے۔ ریاست میں کے سی آر کا مقابلہ کرنے بی جے پی واحد متبادل ہے۔ بی جے پی قیادت قومی سطح پر مستحکم ہے

لہذا انہوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس میں تلنگانہ تحریک کے حقیقی کارکنوں کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ ملک اور تلنگانہ میں کانگریس کی صورتحال ابتر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھ جیسے قائدین بی جے پی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم میں رہ کر انہیں عوام کی خدمت کا موقع ملا لیکن آج پارٹی کمزور ہونے کے سبب یہ موقع نہیں ہے۔ پرکاش ریڈی نے کہا کہ پراجکٹس کی ری ڈیزائننگ کے نام پر عوامی رقومات کو لوٹا جارہا ہے۔ پراجکٹس کے کام آندھرا کنٹراکٹرس کو دئے گئے اور کے سی آر خاندان کمیشن حاصل کررہا ہے۔ انہوں نے یادادری میں کے سی آر کی تصویر کی مخالفت کی اور اسے نکالنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پیش قیاسی کی کہ ٹی آر ایس دو حصوں میں منقسم ہوجائیگی۔ ایٹالہ راجندر اور رکن اسمبلی آر بالکشن کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ صورتحال غیر واضح ہے۔ تلنگانہ میں معاشی بحران ہے اور ریاست قرض میں مبتلاء ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی واحد متبادل پارٹی صرف بی جے پی ہوسکتی ہے۔